Fatwa #1522
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
کہا کاغذ لاؤ میں ابھی بیوی کو طلاق لکھتا ہوں تو طلاق واقع ہوئی کہ نہیں؟
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
11,814
سوال (Question):
کہا کاغذ لاؤ میں ابھی بیوی کو طلاق لکھتا ہوں تو طلاق واقع ہوئی کہ نہیں؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
کہا کاغذ لاؤ میں ابھی بیوی کو طلاق لکھتا ہوں تو طلاق واقع ہوئی کہ نہیں؟
مسئلہ:- از: مولانا حفیظ اللہ قادری ، کرسیاں ، سدھارتھ نگر سوال : زید نے کہا کہ کاغذ لاؤ میں ابھی میں اپنی بیوی کو طلاق لکھتا ہوں تو اس جملہ سے اس کی بیوی پر طلاق پڑا یا نہیں؟ الجوابــــــــــــــــــــــــ صورت مذکورہ میں زید کا یہ کہنا کہ :” کاغذ لاؤ میں اپنی بیوی کو ابھی طلاق لکھتا ہوں” سے طلاق واقع نہ ہوگی کیونکہ یہ جملہ الفاظ طلاق سے نہیں ، بلکہ ارادہ طلاق ہے۔ اور ارادہ طلاق سے طلاق واقع نہ ہوگی ۔ حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں :” ارادہ طلاق سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔ ” ( فتاویٰ امجدیہ جلد دوم صفحہ ۲۳٤) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب الجواب الصحیح:- جلال الدین أحمد الامجدی کتبہ:- محمد شبیر احمد مصباحی
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
12
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9