Fatwa #1522
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
کہا کاغذ لاؤ میں ابھی بیوی کو طلاق لکھتا ہوں تو طلاق واقع ہوئی کہ نہیں؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Verified Hanafi Fiqh
تاریخ: September 18, 2025
0
11,816
سوال (Question):
کہا کاغذ لاؤ میں ابھی بیوی کو طلاق لکھتا ہوں تو طلاق واقع ہوئی کہ نہیں؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
کہا کاغذ لاؤ میں ابھی بیوی کو طلاق لکھتا ہوں تو طلاق واقع ہوئی کہ نہیں؟
مسئلہ:- از: مولانا حفیظ اللہ قادری ، کرسیاں ، سدھارتھ نگر سوال : زید نے کہا کہ کاغذ لاؤ میں ابھی میں اپنی بیوی کو طلاق لکھتا ہوں تو اس جملہ سے اس کی بیوی پر طلاق پڑا یا نہیں؟ الجوابــــــــــــــــــــــــ صورت مذکورہ میں زید کا یہ کہنا کہ :” کاغذ لاؤ میں اپنی بیوی کو ابھی طلاق لکھتا ہوں” سے طلاق واقع نہ ہوگی کیونکہ یہ جملہ الفاظ طلاق سے نہیں ، بلکہ ارادہ طلاق ہے۔ اور ارادہ طلاق سے طلاق واقع نہ ہوگی ۔ حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں :” ارادہ طلاق سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔ ” ( فتاویٰ امجدیہ جلد دوم صفحہ ۲۳٤) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب الجواب الصحیح:- جلال الدین أحمد الامجدی کتبہ:- محمد شبیر احمد مصباحی
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh