Fatwa #118
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
کیاصلاة التسبیح جماعت کے ساتھ پڑھ سکتے ہیں؟ مفتی محمد نظام الدین قادری
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
4,196
سوال (Question):
کیاصلاة التسبیح جماعت کے ساتھ پڑھ سکتے ہیں؟ مفتی محمد نظام الدین قادری
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
کیاصلاة التسبیح جماعت کے ساتھ پڑھ سکتے ہیں؟از مفتی محمد نظام الدین قادری دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علماےدین مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ صلاۃ التسبیح جماعت کے ساتھ پڑھنا یا پڑھانا درست ہے یا نہیں اگر ہے تو جماعت کاطریقہ کیا ہوگا ؟ المستفتی: محمدرضاعلیمی ببھنان
الجواب: صلاة التسبیح ایک نفل نماز ہے اور نماز تراویح ، نمازِ استسقاء اور نماز کسوف (سورج گہن کی نماز)کے علاوہ نفل نماز کی جماعت “تداعی” کے ساتھ مکروہ ہے۔ “تداعی” کا مطلب یہ ہے کہ تین سے زیادہ مقتدی ہوں۔ صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: “جمعہ و عیدین میں جماعت شرط ہے اور تراویح میں سُنت کفایہ کہ محلہ کے سب لوگوں نے ترک کی تو سب نے بُرا کیا اور کچھ لوگوں نے قائم کر لی تو باقیوں کے سر سے جماعت ساقط ہوگئی اور رمضان کے وتر میں مستحب ہے، نوافل اور علاوہ رمضان کے وتر میں اگر تداعی کے طور پر ہو تو مکروہ ہے۔ تداعی کے یہ معنی ہیں کہ تین سے زیادہ مقتدی ہوں ۔ سورج گہن میں جماعت سنت ہے اور چاند گہن میں تداعی کے ساتھ مکروہ”
(بہار شریعت حصہ ٣ ص ۵٨٢ )
اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: “تراویح وکسوف واستسقاء کے سوا جماعت نوافل میں ہمارے ائمہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم کامذہب معلوم ومشہور اور عامہ کتب مذہب میں مذکور ومسطور ہے کہ بلاتداعی مضائقہ نہیں اور تداعی کے ساتھ مکروہ ۔ تداعی ایک دوسرے کوبلاناجمع کرنا اور اسے کثرتِ جماعت لازم عادی ہے اور اس کی تحدید امام نسفی وغیرہ نے کافی میں یوں فرمائی کہ امام کے ساتھ ایک دوشخص تک بالاتفاق بلاکراہت جائز ، اور تین میں اختلاف، اور چارمقتدی ہوں تو بالاتفاق مکروہ”(فتاوی رضویہ ج٣ ص ۴٦۴)
صلاة التسبیح کی نماز اگر “تداعی” کے بغیرجماعت سے پڑھی جائے تو اس کی جماعت کا طریقہ وہی ہوگا جو دیگر نمازوں کی جماعت کا طریقہ ہے ۔ یہاں یہ ملحوظ رہے کہ اگر عوام چار سے زیادہ مقتدیوں کے ساتھ جماعت کریں تو شرعی مصلحت یہی ہے کہ انھیں منع نہ کیا جائے ۔ امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: “نفل غیرتراویح میں امام کے سوا تین آدمیوں تک تواجازت ہے ہی، چار کی نسبت کتب فقہیہ میں کراہت لکھتے ہیں، یعنی کراہت تنزیہ، جس کا حاصل خلاف اولٰی ہے، نہ کہ گناہ حرام ، کما بیناہ فی فتاوٰنا۔مگرمسئلہ مختلف فیہ ہے اور بہت اکابرِ دین سے جماعتِ نوافل بالتداعی ثابت ہے اور عوام فعلِ خیر سے منع نہ کئے جائیں گے، علمائے امت وحکمائے ملت نے ایسی ممانعت سے منع فرمایا ہے،درمختارمیں ہے:اما العوام فلایمنعون من تکبیر والتنفل اصلا لقلۃ رغبتھم فی الخیرات بحر”(فتاوی رضویہ ج ٣ص ۴٧٩)
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔ کتبہ:محمد نظام الدین قادری: خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی۔بستی۔ یوپی۔ ٢٩/رمضان المبارک ١۴۴٢//١٢/مئی ٢٠٢١ءنماز فجر اور عصر کے بعد سجدہ تلاوت کا حکم
نماز عصر کے بعد قضا پڑھنے کا حکم / عصر کے بعد نفل
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9