صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #703 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

کیاٹیسٹ ٹیوب بےبی جائز ہے؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 4,984

سوال (Question):

کیاٹیسٹ ٹیوب بےبی جائز ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

کیاٹیسٹ ٹیوب بےبی جائز ہے؟

الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ٹیسٹ ٹیوب بےبی کےجتنےبھی رائج طریقےہیں ان میں سےایک طریقہ جائزہےاورباقی طریقے ناجائزوحرام ہیں: جائزطریقہ: اگرشوہرکامادہ منویہ اسکی بیوی کےرحم میں ٹیوب کےذریعےرکھاجائےاوریاتوشوہر خودرکھےیابیوی اپنےرحم میں رکھے اورمزیدشرط یہ ہےکہ شوہرخودمشت زنی کرکے(یعنی اپنےہاتھوں سےمنی نکال کر)اپنامادہ اس کام کیلیےنہ نکالےبلکہ یاتوبیوی کےہاتھ کےذریعےمادےکااخراج کروائے یابیوی کی اجازت سے عزل(عزل کامعنی یہ ہےصحبت کرتےوقت جب منی نکلنےلگےتوشوہر اپنےعضوکوباہر نکال کرشرم گاہ سےباہرمنی کونکالے ) کےذریعےمادہ منویہ حاصل کرے۔ ناجائزطریقے: مذکورہ بالاطریقےکےعلاوہ باقی رائج طریقےناجائزوگناہ ہیں جیسے: 1-شوہرکےعلاوہ کسی دوسرےکامادہ رحم میں رکھوانا۔ 2۔مادہ توشوہرکاہومگرخودعورت یااسکاشوہررحم میں نہ رکھیں بلکہ کوئی اورمردیاعورت اسکےرحم میں مادہ رکھیں 3-مشت زنی کرکے شوہراپنامادہ حاصل کرے وغیرہ وغیرہ ۔ واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم کتبـــــــــــــــہ : مفتی ابو اسید عبیدرضامدنی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh