صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1672 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

کیا ابوجہل نبی کریم ﷺ کا چچا ہے یا کسی اور قبیلہ سے اس کا تعلق ہے؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 9,781

سوال (Question):

کیا ابوجہل نبی کریم ﷺ کا چچا ہے یا کسی اور قبیلہ سے اس کا تعلق ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

کیا ابوجہل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چچا ہے یا کسی اور قبیلہ سے اس کا تعلق ہے ؟

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ: کیافرماتےہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا ابوجہل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چچا ہے یا کسی اور قبیلہ سے اس کا تعلق ہے اور اس کا اصل نام کیاہے؟ (سائل محمد احسن سندھ پاکستان) وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ الجواب بعون الملک الوھّاب ابوجہل نبی کریم صلی اللہُ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کا چچا نہیں تھا،عوام میں یہ مشہور ضرور ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ یہ سرکاردوعالم صلی اللہُ تعالیٰ علیہ والہ و سلم کا چچا نہیں ہے،اوراس کانام عمرو ابن ہشام ہے.. پہلا قول: ابوجہل نہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حقیقی چچا تھا اور نہ ہی دور کا جیسا کہ اس کے نسب نامہ میں(عمرو ابن ہشام بن مغیرہ بن عبداللہ بن عمرو بن مخزوم) سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے ۔ واسمہ عمرو ابن ہشام بن المغیرة بن عبد اللہ بن عمرو بن مخزوم.. (الیسرة ۔ النبویة لابن ہشام: ۲/رقم: ۹۴۲) دوسرا قول: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا شجرۂ نسب درج ذیل ہے: محمد بن عبداللّٰہ بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرۃ بن کعب بن لوی القریشی. ابوجہل کا نام عمرو بن ہشام تھا۔ اس کا شجرۂ نسب درج ذیل ہے: عمرو بن ہشام بن المغیرۃ بن عبد اللّٰہ بن عمر بن مخزوم بن یقظۃ بن مرۃ بن کعب بن لوی القریشی. اس اعتبار سے ابوجہل کا شجرۂ نسب مُرَّہ بن کعب پر جا کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے مل جاتا ہے، یعنی مُرَّہ دونوں کے جد اعلیٰ ہیں۔ مُرَّہ سے نیچے دونوں شاخوں کو ترتیب سے دیکھیں تو ابو جہل بہت دور کے رشتے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا چچا زاد تھا، نہ کہ چچا: تیسرا قول: بوجہل( جس کا اصل نام عمرو ابن ہشام تھا )قریش خاندان سے تعلق تھا، لیکن نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ و سلم سے اس کا کوئی قریبی رشتہ نہیں تھا، بعض لوگ جو اس کو حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ و سلم کا چچا خیا ل کرتے ہیں یہ غلط ہے ؛ اس لیے کہ آ پ صلی اللہُ تعالیٰ علیہ والہ و سلم کے دادا عبد المطلب تھے اور ابوجہل نہ عبد المطلب کا بیٹا ہے اور نہ ہی عبد المطلب کے خاندان کا ہے؛ بلکہ عبد المطلب عبد مناف کے خاندان کے تھے اور ابو جہل مخزومی قبیلہ اور خاندان کا تھا ان دونوں میں خونی رشتہ نہیں ہے: ابوجہل بن ہشام بن المغیرۃ بن عبد الله بن عمر بن مخزوم القرشي المخزومي.. (الخ/اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ،دارالفکر ۳/۵۶۷) (فقیہ اعظم ہندحضرت قبلہ مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ تعالی علیہ تحریر فرماتے ہیں: کہ ابو جہل نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کا چچا تھا یہ بالکل غلط بھی ہے اور مسلمانوں کے لئے اشتعال انگیز بھی ہے،ابو جہل کا قبیلہ بنو مخزوم کا تھا اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم بنی ہاشم سے تھے پھر ابو جہل حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا چچا کیسے ہو سکتا ہے،،ابوجہل بہت سرکش فسادی کافر تھا کسی فسادی وسرکش بد نام آدمی کو اگر کسی شریف عزت دار آدمی کا چچا بتایا جائے اور رشتے میں وہ اس کا چچا نہ ہو تو یہ ایک طرح کی گالی ہوتی ہے: (فتاویٰ شارح بخاری/جلداول صفحہ۴١١/مطبوعہ،دائرۃ البرکات) واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم ﷺ کتبہ: ابورضا محمدعمران عطاری مدنی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh