صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2616 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

کیا اذان بغیر وضو کے نہیں دی جا سکتی اگر بغیر وضو کے اذان دی گئی تو کیا حکم ہے؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 12,104

سوال (Question):

کیا اذان بغیر وضو کے نہیں دی جا سکتی اگر بغیر وضو کے اذان دی گئی تو کیا حکم ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

کیا اذان بغیر وضو کے نہیں دی جا سکتی اگر بغیر وضو کے اذان دی گئی تو کیا حکم ہے؟

سوال ۔۔۔۔ السلام علیکم! کیا اذان بغیر وضو کے نہیں دی جا سکتی اگر بغیر وضو کے اذان دی گئی تو کیا حکم ہے؟

الجواب بعون الوہاب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ ۔۔ دیکھیں اذان کے لئے وضو کرنا مستحب ہے کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اذان دینے والے کے لئے باوضو رہنے کی ہدایت فرمائی ہے جیساکہ جامع ترمذی میں حدیث مبارک ہے : عن أبی ہریرۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال لا یؤذن الا متوضیئ :حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: باوضو شخص ہی اذان کہے ۔ (جامع ترمذی ، ابواب الصلوٰۃ ، باب ماجاء فی کراھیۃ الاذان بغیر وضوء ، حدیث نمبر:٢٠٠) اگر کوئی شخص بغیر وضو اذان کہہ دے تو جائز ہوجاتی ہے ، اُسے دہرانے کی ضرورت نہیں۔ جیساکہ ہدایہ میں ہے : وینبغی أن یؤذن ویقیم علی طہر فإن أذن علی غیر وضوء جاز۔(الہدایۃ، باب الاذان ) تاہم بہتر یہ ہے کہ بحالتِ وضو اذان کہی جائے کیونکہ اذان کا مقصد لوگوں کو نماز کے لئے بلانا ہے ، لہذا مؤذن کو چاہئے کہ جس کارِ خیر کے لئے دعوت دے رہاہے خود بھی اس کے لئے عملی طور پر تیار رہے۔ واللہ تعالی اعلم بالصواب – از: محمد مکی القادری عفی عنہ استاذ و مفتی الحنفیہ الاسلامیہ عربی گلرس اکیڈمی گورکھپور

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh