صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #405 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

کیا اللہ تعالی ستر (70) ماؤں سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے ؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 10,781

سوال (Question):

کیا اللہ تعالی ستر (70) ماؤں سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

کیا اللہ تعالیٰ ستر (70) ماؤں سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے ؟

الجواب بعون الملک الوہاب :

جی ہاں ! ایسا ہی ہے کہ اللہ پاک ستر (70) ماؤں سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے بلکہ بہت زیادہ رحم فرمانے والا ہے جس کی کوئی حد بیان نہیں کی جاسکتی، البتہ ان لفظوں کے ساتھ حدیث موجود نہیں بلکہ احادیثِ مبارکہ میں یہ مضمون ضرور ملتا ہے کہ ﷲ پاک نے رحمت کے سو (100) حصے کرکے اس کا ایک حصہ مخلوق میں تقسیم کیا اور ننانوے (99) حصے اپنے پاس رکھے ۔

چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ :

“جَعَلَ اﷲُ الرَّحْمَة مِائَة جُزْئٍ فَأَمْسَکَ عِنْدَه تِسْعَة وَتِسْعِینَ جُزْئًا وَأَنْزَلَ فِي الْأَرْضِ جُزْئًا وَاحِدًا فَمِنْ ذَلِکَ الْجُزْئِ یَتَرَاحَمُ الْخَلْقُ حَتَّی تَرْفَعَ الْفَرَسُ حَافِرَها عَنْ وَلَدِها خَشْیَة أَنْ تُصِیبَه” ۔

یعنی اللہ پاک نے رحمت کے سو حصے کیے ہیں، پس ننانوے حصے اپنے پاس رکھ لیے اور ایک حصہ زمین میں اتارا۔ پس اسی ایک (رحمت والے) جز کی وجہ سے مخلوق ایک دوسرے پر رحم کرتی ہے، یہاں تک کہ گھوڑی جو اپنے بچے کو تکلیف پہنچنے کے ڈر سے اس کے اوپر سے اپنا کُھر اٹھاتی ہے (وہ بھی اسی ایک حصے سے ہے) ۔

(الصحیح البخاري جلد 5 صفحہ 2234 رقم الحدیث: 5954 دار ابن کثیر الیمامة بیروت، الصحیح المسلم، جلد 4 صفحہ 2108 رقم الحدیث: 2752 دار احیاء التراث)

اسی طرح حضرت سلمان رضی اللہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

“إِنَّ ﷲَ خَلَقَ یَوْمَ خَلقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ مِائَة رَحْمَةِِ کُلُّ رَحْمَةِِ طِبَاقَ مَا بَیْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ فَجَعَلَ مِنْها فِي الْأَرْضِ رَحْمَة فَبِها تَعْطِفُ الْوَالِدَة عَلَی وَلَدِها وَالْوَحْشُ وَالطَّیْرُ بَعْضُهاعَلَی بَعْضٍ فَإِذَا کَانَ یَوْمُ الْقِیَامَة أَکْمَلَها بِهذِهِ الرَّحْمَة”۔

یعنی بے شک اللہ پاک نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کرنے کے دن، سو (100) رحمتیں پیدا کیں، ہر رحمت آسمان اور زمین کے بھراؤ کے برابر ہے، پس اس نے ان میں سے ایک رحمت زمین پر نازل کی، اسی رحمت کی وجہ سے والدہ اپنی اولاد پر مہربانی کرتی ہے اور درندے اور پرندے ایک دوسرے پر (مہربانی کرتے ہیں) جب قیامت کا دن ہو گا تو اللہ تعالیٰ اس رحمت کے ساتھ اپنی رحمتوں کو مکمل فرمائے گا ۔

(الصحیح المسلم جلد 4 صفحہ 2109 رقم الحدیث : 2753 دار احیاء التراث)

واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

کتبہ : مفتی ابواسیدعبیدرضامدنی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh