صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1239 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

کیا امام اعظم کی کوئ بیٹی حنیفہ نام کی تھیں ؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 9,113

سوال (Question):

کیا امام اعظم کی کوئ بیٹی حنیفہ نام کی تھیں ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

کیا امام اعظم کی کوئ بیٹی حنیفہ نام کی تھیں ؟

کیا فرماتے ہیں علماۓ کرام و مفتیان شرع اسلام کہ کچھ لوگ کہتےہیں کہ ایک عورت امام اعظم ابوحنیفہ کی بارگاہ میں آئی اورسوال کی کہ ایک عورت چار شادی کیوں نہیں کرسکتی تو آپکی بیٹی حنیفہ نےکہا ابو جان اگرمیں اس سوال کاجواب دےدوں توکیا آپ اپنےنام کےساتھ میرا نام جوڑیں گےتو آپنےفرمایا ہاں اسکے بعد بیٹی مسئلہ حل کردیاتب سے آپکےنام کےساتھ ابوحنیفہ کہا جانےلگا کیا یہ صحیح ہے؟ برائےکرم مفصل ماخوذ کیساتھ جواب عنایت فرماکرشکریہ کاموقع عنایت فرمائیں۔ سائل ۔۔۔ محمد مہدی حسن الجواب بعون الملک الوھاب  صورت مستفسرہ میں عرض یہ ھیکہ عوام میں جو معروف ہے کہ امام اعظم کی ایک بیٹی ہے جس کا نام حنیفہ ہے لہذا اسی نام سے حضرت امام اعظم کو یاد کیا جاتا ہے محض یہ بے اصل اور غلط ہے در اصل امام اعظم حضرت نعمان بن ثابت رضی اللہ عنہ کی کوئی بیٹی نہیں ہے ایک ہی اولاد ہے جس کا نام حضرت حماد رضی اللہ تعالٰی عنہ ہیں ۔

ابوحنیفہ کیوں کہا جاتا ہے ؟

استاذ عبدالحکیم جندی نے لکھا ہے کہ آپ کے درس وسیع تھا آپ کے شاگرد اپنے ساتھ قلم دوات رکھا کرتے تھے چونکہ اہل عراق دوات کو حنفیہ کہتے ہیں اس لئے آپ کو ابوحنیفہ کہا گیا ہے ۔ اور بعض نے کہا ہے کہ آپ شدت سے حق کی طرف راغب اور کثرت سے اللہ کی عبادت کرتے تھے اس لیے ابوحنیفہ کہا اور لکھا ہے آپ مستعمل پانی کے استعمال کو جائز نہیں سمجھتے تھے اس لیے آپ متبعین نے ٹونٹی کا استعمال شروع کیا چونکہ ٹونٹی کو حنفیہ کہتے ہیں اس لئے آپ کا نام ابوحنیفہ پڑ گیا ۔ (بحوالہ سوانح امام اعظم ابوحنیفہ ص،٥٩ تا ٦٠) اور حضور تاج الشریعہ فرماتے ہیں کہ حنفیہ اوراق کو کہتے ہیں زیادہ لکھنے کی وجہ سے آپ کو ابوحنیفہ کہا جاتا ہے ۔ (فتاوی ازھریہ جلد اول ص، ٤٣٧) واللہ تعالی اعلم بالصواب ۔ کتبــــــــہ : مفتی منظور القادری خادم التدریس لدرجات العالیہ دارالعلوم معین الاسلام چھتونہ میگھولی کلاں مہراجگنج یوپی۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh