Fatwa #789
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
کیا انٹرسٹ کا پیسہ غریبوں میں تقسیم کر سکتے ہیں؟
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
4,735
سوال (Question):
کیا انٹرسٹ کا پیسہ غریبوں میں تقسیم کر سکتے ہیں؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
کیا انٹرسٹ کا پیسہ غریبوں میں تقسیم کر سکتے ہیں؟
الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــ ہاں تقسیم کرسکتے ہیں بلکہ تقسیم کرنا ہی چاہئے، اس لئے کہ انٹرسٹ کا مال جو ہوتا ہے اس کو غرباء، مساکین اور اسی طریقے سے دیگر رفاہی کام کرنے والوں کو اگر دیا جائے تو علماء کے نزدیک یہ زیادہ بہتر ہے ۔ حکومت ہند کے بینکوں سے جو زائد رقم ملتی ہے وہ سود قطعاً نہیں بلکہ مال مباح ہے ۔ لہذا اسے غریبوں، محتاجوں میں تقسیم کرنا ضرور جائز ہے بلکہ اعلی حضرت رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے لکھا ہے کہ افضل یہی ہے اور زیادہ ثواب اسی میں ہے کہ حاصل شدہ رقم فقراء اور محتاجوں میں تقسیم کر دی جائے ۔ واللہ تعالی اعلم کتبـــــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
12
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9