صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2647 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

کیا بندر بنی اسرائیل کی نسل میں سے ہیں ؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 5,549

سوال (Question):

کیا بندر بنی اسرائیل کی نسل میں سے ہیں ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

کیا بندر بنی اسرائیل کی نسل میں سے ہیں ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا بندر بنو اسرائیل کی نسل میں سے ہیں یا نہیں کہا جاتا ہے بندر ان ہی کی نسل سے ہیں ؟ بینوا و توجروا

الجواب ھو الھادی الی الصواب

موجودہ بندر مسخ شدہ بنو اسرائیل میں سے نہیں ہے تمام مسخ شدہ بنو اسرائیل تین دن بعد مر گۓ تھے ۔ امام ابن جریر نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابن عباس کی ایک طویل روایت ذکر کی ہے۔، جن لوگوں نے ہفتہ کا دن مچھلی کا شکار کیا تھا۔، ان کی معصیت کی وجہ سے اللہ نے انکو بندر بنادیا وہ زمین میں صرف تین دن زندہ رہے ۔، انہوں نے نہ کچھ کھایا نہ پیا نہ ان کی نسل چلی۔، اور اللہ نے بندروں خنزیروں اور باقی تمام مخلوق کو چھ دنوں میں پیدا کیا تھا۔، جس کا ذکر اللہ نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے۔، اور اللہ نے اس قوم کو بندروں کی صورت میں مسخ کردیا اور وہ جس کے ساتھ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔، اس پر تمام مفسرین محدثین متکلمین کا اتفاق ہیں بنو اسرائیل کی مسخ شدہ نسل نہیں چلی۔،البتہ علامہ ابن العربی نے اس میں اختلاف کیا ہے بعض روایات کو لیکر مثلاً بندریہ کو رجم کیا گیا جو کی بخاری کے بعض نسخوں میں یہ روایت ہے ۔، ذبح شدہ گوہ کو پتیلوں میں سے پھینک دیا گیا اس کو کھایا نہیں گیا حب کہ تمام صحابہ بھوکے تھے۔، یا جو روایت چوہوں کے بارے میں آئی ہے ان سب روایات کو لیکر علامہ ابن عربی نے اختلاف کیا ہے۔، اب ہم ان سب کو ذکر کرے تو گفتگو بہت طویل ہوجائے گی۔، بہر حال خلاصہ کلام یہ ہے ۔ بنو اسرائیل کی نسل آگے نہیں چلی اس کی دلیل میں ہم اوپر حدیث ذکر کر آئے ہے۔، جس سے پتہ چلا وہ سب تین دن بعد ہلاک ہوگۓ تھے ان کی نسل نہیں چلی۔ نیز صحیح مسلم میں : حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ الْقِرَدَةُ وَالْخَنَازِيرُ هِيَ مِمَّا مُسِخَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يُهْلِكْ قَوْمًا أَوْ يُعَذِّبْ قَوْمًا فَيَجْعَلَ لَهُمْ نَسْلًا وَإِنَّ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِيرَ كَانُوا قَبْلَ ذَلِكَ ۔ ایک آدمی نے پوچھا : اللہ کے رسول! یہ بندر اور خنزیر کیا انہی میں سے ہیں جو مسخ ہو کر بنے تھے؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے کسی قوم کو ہلاک کیا یا کسی قوم کو عذاب دیا تو پھر ان ( لوگوں ) کی نسل نہیں چلائی بندر اور خنزیر تو ان سے پہلے بھی موجود تھے صحیح مسلم حدیث نمبر 6772 یہ حدیث زیر بحث مسئلہ میں صاف تصریح ہے کہ موجودہ بندر اور خنزیر مسخ شدہ بنو اسرائیل میں سے نہیں یے ۔، کتبہ : علامہ مفتی دانش حنفی مد ظلہ العالی  ہلدوانی نینیتال

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh