صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1288 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

کیا بچے کو دودھ پلانے سے عورت کا وضو ٹوٹ جاتا ہے

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 4,466

سوال (Question):

کیا بچے کو دودھ پلانے سے عورت کا وضو ٹوٹ جاتا ہے

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

کیا بچے کو دودھ پلانے سے عورت کا وضو ٹوٹ جاتا ہے

بعض جگہ جاہلوں میں یہ مشہور ہو گیا ہے کہ عورت اگر بچے کو دودھ پلائے اور وہ باوضو ہو تو اس کا وضو ٹوٹ جاتا ہے ۔ یہ ایک غلط بات ہے .بچے کو دودھ پلانے سے عورت کا وضو نہیں ٹوٹتا ۔ اور اس کے بعد پھر سے وضو کئے بغیر نماز پڑھ سکتی ہے دوبارہ وضو کرنے کی حاجت نہیں۔

ہر ناپاکی پر غسل کرنا ضروری نہیں

اکثر دیکھا گیا ہے لوگوں سے پوچھا آپ نے نماز کیوں نہیں پڑھی ؟ تو وہ جواب میں کہتے ہیں کہ ہم نہائے ہوئے نہیں ہیں ۔ اور ہوتا یہ ہے کہ انہوں نے یا تو پیشاب کرنے کے بعد ڈھیلے یا پانی سے استنجا نہیں کیا ہے یا ان کے بدن اور کپڑے پر کہیں کوئی ناپاکی پیشاب یا گوبر یا کیچڑ وغیرہ کوئی گندگی لگ گئی ہے اور وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ ان صورتوں میں غسل کرنا اور نہانا ضروری ہے اور خواہ مخواہ نماز چھوڑ کر بڑے گنہ گار ہوتے ہیں حالانکہ ان سب صورتوں میں نہانے کی ضرورت نہیں بلکہ بدن یا کپڑے کے جس حصے پر ناپاکی لگی ہو اس کو دھونا یا کسی طرح اس کو دور کردینا کافی ہے ۔ یا جس کپڑے پر ناپاکی ہے اس کو بدل دیا جائے ۔ یہ بھی اس صورت میں ہے کہ جب کہ ناپاکی دور کرنے یا اس کو دھونے پر قادر ہو ورنہ ایسے ہی ناپاک کپڑے میں نماز پڑھی جائے ۔ اور اگر تین چوتھائی (٣/٤) سے زیادہ کپڑا ناپاک ہو تو برہنہ یعنی ننگے بدن نماز پڑھے اور اگر ایک چوتھائی (١/٤) پاک ہے باقی ناپاک تو واجب ہے کہ اسی کپڑے سے نماز پڑھے ۔ (بہار شریعت،ح٣،ص ٤٦) مگر یہ سب اسی وقت ہے جبکہ ناپاکی کو دور کرنے یادھونے کی کوئی صورت نہ ہو اور بدن چھپانے کو کوئی اور پاک کپڑا نہ ہو ۔ مزید تفصیل کے لئے مندرجہ ذیل کتابوں کا مطالعہ کریں : فتاویٰ عالمگیری، فتاویٰ رضویہ، بہار شریعت، قانون شریعت، نظام شریعت ۔۔۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ نماز کسی صورت میں چھوڑنے کی اجازت نہیں ہے ۔ اور ہر ناپارکی پر نہانا فرض نہیں ۔ غسل فرض ہونے کی چند مخصوص صورتیں ہیں: جیسے مرد کا عورت کے ساتھ ہمبستر ہونا ۔ دونوں میں سے کسی کو احتلام ہونا ۔ یا جوش اور جھٹکوں کے ساتھ منی خارج ہونا ۔ عورتوں کو حیض ونفاس آنا۔۔ ماخوذ از غلط فہمیاں اور ان کی اصلاح / علامہ تطہیر احمد رضوی بریلی شریف 

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh