صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1810 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

کیا بھائی کے علاحدہ کاروبار میں دوسرے بھائیوں کا بھی حصہ ہو تا ہے؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 7,960

سوال (Question):

کیا بھائی کے علاحدہ کاروبار میں دوسرے بھائیوں کا بھی حصہ ہو تا ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

کیا بھائی کے علاحدہ کاروبار میں دوسرے بھائیوں کا بھی حصہ ہو تا ہے؟

کیا فرماتے ہیں علمائے اسلام مندرجہ ذیل مسئلہ میں: زید تین بھائی ہیں۔ دو بھائی والد کے ساتھ گھر پہ رہتے ہیں اور زید دہلی میں اپنا کاروبار کرتا ہے گھر والوں سے کبھی کچھ نہیں لیا بلکہ گھر والوں اور اپنے والدین پر خود ہی خرچ کرتا ہے ۔ اب کیا زید کی جائیداد میں زید کی حیات میں اسکے دونوں بھائی بھی حقدار ہیں؟ المستفتی: محمد منہاج رضا برداہا مہوتری نیپال الجوابـــــــــــــــــ صورتِ مسئولہ میں اگر واقعی زید نے کاروبار میں مشترکہ مال نہ لگایا ہو، بلکہ اپنی کمائی کے مال سے کاروبار کیا ہو تو شرعا اس میں اس کے دونوں بھائیوں کا حصہ نہیں ہے، ہاں! اگر برّ وصلہ کے طور پر انھیں بھی کچھ دیدے تو بہتر ہے۔ اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ تحریر فرماتے ہیں: “اور جو کچھ مال اس کے سوا پیدا کیا یعنی اس زمانہ میں کہ اس کا خورد ونوش باپ سے جدا تھا یا اپنے ذاتی مال سے کوئی تجارت کی یا کسب پدری سے الگ کوئی کسب خاص مستقل اپنا کیا جیسے صورت مستفسرہ میں نوکری کا روپیہ یہ اموال خاص بیٹے کے ٹھہریں گے،خیریہ وعقود میں ہے : سئل فی ابن کبیر ذی زوجۃ وعیال ، لہ کسب مستقل حصل بسببہ اموالا ، ھل ھی لوالدہ؟ اجاب ھی للابن حیث لہ کسب مستقل۔ واما قول علمائنا یکون کلہ للاب، فمشروط کما یعلم من عبارتھم بشروط: منھا اتحاد الصنعۃ وعدم مال سابق لھما وکون الابن فی عیال ابیہ فاذاعدم واحد منھا لایکون کسب الابن للاب وانظر الی ماعللوا بہ المسألۃ ان الابن اذاکان فی عیال الاب یکون معینا لہ فمدار الحکم علی ثبوت کونہ معینا لہ فیہ فاعلم ذٰلک۔” (فتاوی رضویہ ج ٨ص٢٣٠) واللہ سبحانہ و تعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ٢٧/ذو القعدة ١۴۴٣ھ// ٢٨/جون ٢٠٢٢ء

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh