Fatwa #115
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
کیا ترکہ کے مکان کی مرمت کا خرچ تمام وارثوں کے ذمہ ہے؟ مفتی محمد نظام الدین قادری
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
13,348
سوال (Question):
کیا ترکہ کے مکان کی مرمت کا خرچ تمام وارثوں کے ذمہ ہے؟ مفتی محمد نظام الدین قادری
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
کیا ترکہ کے مکان کی مرمت کاؐ خرچ تمام وارثوں کے ذمہ ہے؟
عنوان : کیا فرماتے ہیں علماے کرام اس مسےلے مین کہ عبدالغفور میان کا انتقال ہوگیا ۔ اور انتقال کو ایک لمبا عرصہ گزر گیا اب ان کی اولاد وراثت تقسیم کرنا چاہتی ہے ۔ لیکن ان میں اختلاف ہو گیا ہے اور وہ شریعت کی روشنی میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں ۔ عبد الغفور کی تین اولاد ہیں ایک بیٹا انور اور دع بیٹی حمیدہ اور سعیدہ ۔ اور جائداد میں ممبئ میں ایک گھر جس کی قیمت تقریبا ۲۵ لاکھ ہے ۔ اور گاوٓن مین ایک گھر یے جس کی قیمت قیمت تقریبا کم وبیش ۳۰ لاکھ اور ایک اوپن پلاٹ ہے جس کی قیمت لگ بھگ ۲۰ لاکھ روپیے ہے ۔ بیٹے انور کا کہنا ہے کہ میں نے ممبئ کے گھر میں مرمت کے ۲ لاکھ ہچپن ہزار خرچ کیے ہیں وہ مجے واپس چاہیے جبکہ بیٹیوں کا کہنا ہے کہ گھر کا کچھ کام گورنمنٹ اسکیم سے کچھ ہوا ہے ۔ اور بھای انور نیچے کے منزلے پر اور ایک بہن دوسرے منزلے پر رہتے ہیں ۔ اور دوسری بہن الگ سے کرایہ کے مکان پر رہتی ہے جس کا کرایہ دونوں بہنیں مل کر ادا کرتی ہیں ۔ اب انور دوسرے منزلے پر رہنے والی بہن کو نکال رہا ہے اور اپنی مرضی سے تھوڑا کچھ حصی دینے کو کہ رہا یے ۔ تو اب تمام صورت حال میں شریعت کے اعتبار سے کس کو کتنا ملنا چاہیے ۔ آگاہ فرمایں ۔ الجواب: جواب (١) میت عبد الغفور کے اگر اتنے ہی شرعی وارث ہیں جتنے سوال میں مذکور ہیں تو تجہیز وتکفین، اور ان کے ذمہ واجب قرض وغیرہ دیون کی ادائیگی اور بقدرِ نافذ وصیتیں پوری کرنے کے بعد پورے مال وجائداد کے چار حصے کیے جائیں گے، جس میں سے بیٹا انور کو دو حصہ اور دونوں بیٹیوں حمیدہ اور سعیدہ کو ایک ایک حصہ ملے گا ۔ اللہ جل شانہ کا فرمان ہے : یوصیکم اللہ فی اولادکم للذکر مثل حظ الانثیین ۔ (سورہ نساء: آیة:١١) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم ۔ جواب(٢) انور نے باپ کے چھوڑے ہوئے گھر کی مرمت میں جو دو لاکھ پچپن ہزار روپیہ خرچ کیا ہے تو اگر خرچ کرنے سے پہلے دونوں بیٹیوں سے اجازت لے لی ہو اور انھوں نے یہ کہا ہو کہ مرمت کرو اور جو خرچ آئیگا سب پر تقسیم ہوگا ۔ تو ایسی صورت میں انور بیٹیوں کے حصہ کے حساب سے مرمت کا خرچ پائے گا اور اگر بطور خود ان کی اجازت ورضامندی کے بغیر مرمت میں خرچ کیا تو بیٹیوں سے مرمت کا خرچ نہیں لے سکتا ۔ کیوں کہ اس کو یہ اختیار تھا کہ جائداد کا بٹوارہ کرنے کے بعد صرف اپنے حصہ میں پڑنے والی عمارت کی مرمت کراتا،اس لیے ان کی اجازت کے بغیر جو خرچ کیابطور تبرع واحسان خرچ کرنے والا ہوگا اور واپس نہیں لے سکتا ۔ صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: “اگر شریک کواس کام کا کرنا ضروری نہ ہواور بغیر اجازت کریگا تو تبرع ہے ۔ جیسے دو شخصوں میں مکان مشترک ہے اور خراب ہورہا ہے اسکی تعمیر ضروری ہے مگر بغیر اجازت جو صرفہ کرے گا اُس کا معاوضہ نہیں ملے گا کہ ہوسکتا ہے مکان تقسیم کراکے اپنے حصہ کی مرمت کرالے پورے مکان کی مرمت کرانے کی اسکو کیا ضرورت ہے ۔ (بہار شریعت حصہ ١٠ ص۵٢٢)واللہ سبحانہ وتعالی اعلم ۔ جواب(٣) جو بہن کرایہ کے مکان میں رہتی ہے اس کا کرایہ خود اس کے ذمہ ہے اس کو وراثت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ وراثت کا مطلب میت کا چھوڑا ہوا مال ہے ۔ واللہ سبحانہ وتعالی اعلم ۔ کتبہ: محمد نظام الدین قادری: خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی۔ بستی۔ یوپی۔ ٢٨/رمضان المبارک ١۴۴٢//١١/مئی ٢٠٢١ء
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9