صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1379 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

کیا حاملہ عورت مہندی لگا سکتی ہے؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 5,172

سوال (Question):

کیا حاملہ عورت مہندی لگا سکتی ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

کیا حاملہ عورت مہندی لگا سکتی ہے؟

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین کہ حاملہ عورت مہندی لگا سکتی ہیں یا نہیں ۔ عام طور سے دیکھا اور سنا گیا ہے کہ حاملہ عورتوں کو مہندی لگانے سے منع کیا جاتا ہے؟ الجوابــــــــــــــــــــــــ ایام سوگ کے علاوہ عورت جب چاہے مہندی لگا سکتی ہے خواہ وہ حاملہ ہو یا غیر حاملہ کوئی حرج نہیں. بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو مہندی لگانے کا حکم فرمایا ہے تاکہ عورتوں کے ہاتھوں کا درندوں مخنثوں اور مردوں کے ہاتھوں سے امتیاز ہو سکے. حدیث شریف میں ہے ” عن عائشۃ ان ھندا بنت عتبۃ قالت یا نبی اللہ بایعنی قال : لا ابایعک حتی تغیری کفیک کانھما کفا سبع ” (السنن لابی داؤد جلد دوم صفحہ 574 باب فی الخضاب للنساء) یعنی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ ہندہ بنت عتبہ نے عرض کیا یا نبی اللہ مجھے بیعت کر لیجئے ۔ فرمایا تجھے بیعت نہیں کروں گا جب تک تو اپنی ہتھیلیوں کو نہ بدل دے۔( یعنی مہندی لگا کر ان کا رنگ نہ بدلے.) تیرے ہاتھ گویا درندہ کے ہاتھ معلوم ہو رہے ہیں عورتوں کو چاہیے کی ہاتھوں کو رنگین کر لیا کریں. دوسری حدیث ہے” عن عائشه قالت اومات امراۃ من وراء ستر بيدها كتاب الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقبض رسول الله صلى الله عليه وسلم يده فقال ما ادري ايد رجل او ام يد امراۃ؟ قالت بل ید امراۃ قال لو كنت امراۃ لغيرت اظفارک يعني بالحناء (السنن لابي داود جلد دوم صفحہ ٥٧٤ باب الخضاب للنساء) یعنی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ کہتی ہیں کہ ایک عورت کے ہاتھ میں کتاب تھی اس نے پردہ کے پیچھے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اشارہ کیا یعنی حضور کو دینا چاہا تو حضور نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور فرمایا کہ معلوم نہیں کہ مرد کا ہاتھ ہے یا عورت کا ہاتھ ہے. اس نے کہا عورت کا ہاتھ ہے. فرمایا کہ اگر عورت ہوتی تو نا خون کو مہندی سے رنگے ہوتی. مذکورہ بالا احادیث مبارکہ سے مہدی کے لگانے کا حکم مطلقا ثابت ہے ۔ اور حالت حمل میں نہ لگانے پر کوئی دلیل شرعی نہیں ہے. علاوہ سوگ والی عورت کے ۔ لہذا حاملہ ہو یا غیر حاملہ دونوں کو مہندی لگانا جائز ہے بلکہ بنیت تکمیل حکم رسول اور برائے سنگار وزینت خاوند ہو تو مستحسن بلکہ باعث اجروثواب ہے ۔ واللہ تعالی اعلم کتبہ : مفتی محمد آصف ملک علیمی الجواب صحیح : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh