صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1687 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

کیا حاملہ عورت کو روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 11,424

سوال (Question):

کیا حاملہ عورت کو روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

کیا حاملہ عورت کو روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے؟

بخدمت اقدس حضور مفتی صاحب قبلہ السلام عليكم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا حاملہ عورت کو رمضان المبارک کے روزے نہ رکھنے کی اجازت ہے مفصل جواب عنایت فرمائیں کرم ہوگا۔ المستفتی فریاد خان نظامی خطیب وامام انوار رضا مسجد بڑی دمن (یوٹی) الجواب بہت ساری حاملہ عورتیں بفضلہ تعالی روزہ رکھتی ہیں اور ان کو کوئی ضرر نہیں ہوتا، لیکن اگر کسی حاملہ عورت کو یہ ظن غالب ہو کہ روزہ رکھنے سے اس کی جان یا اس کے پیٹ میں موجود بچّے کی جان کو خطرہ ہے تو اس کو روزہ رمضان نہ رکھ کر دوسرے دنوں میں قضا کی اجازت ہے۔اور اگر یہ خوف نہ ہو تو اس کو رمضان شریف کا روزہ ترک کرنے کی اجازت نہیں۔ فتاوی عالم گیری میں ہے: “الْحَامِلُ وَالْمُرْضِعُ إذَا خَافَتَا عَلَى أَنْفُسِهِمَا أَوْ، وَلَدِهِمَا أَفْطَرَتَا وَقَضَتَا، وَلَا كَفَّارَةَ عَلَيْهِمَا كَذَا فِي الْخُلَاصَةِ. (فتاوی عالم گیری، کتاب الصوم ج١ ص ٢٠٧) صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: “حمل والی اور دودھ پلانے والی کو اگر اپنی جان یا بچہ کا صحیح اندیشہ ہے، تو اجازت ہے کہ اس وقت روزہ نہ رکھے، خواہ دودھ پلانے والی بچہ کی ماں ہو یا دائی اگرچہ رمضان میں دودھ پلانے کی نوکری کی ہو۔” (بہار شریعت ح ۵ ص ١٠٠٩) واللہ سبحانہ و تعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ٣/رمضان المبارک ١۴۴٣ھ// ۵/اپریل ٢٠٢٢ء

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh