صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #393 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

پرائز بانڈ (Prize Bond) کی رقم پر زکوٰۃ کا حساب

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Verified Hanafi Fiqh تاریخ: August 12, 2026
0 8,665

سوال (Question):

میرے پاس 5 لاکھ کے پرائز بانڈ ہیں، زکوٰۃ کیسے نکالوں اور انعام نکلا تو کیا حکم ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

پرائز بانڈز چونکہ نقد رقم (Cash) کا حکم رکھتے ہیں، اس لیے ان کی اصل مالیت (Face value) پر سال گزرنے کے بعد زکوٰۃ فرض ہے۔ البتہ پرائز بانڈز پر ملنے والا انعام سود اور جوا ہے جو کہ حرام ہے۔ انعام کی رقم استعمال کرنا جائز نہیں، اسے بغیر ثواب کی نیت کے غریبوں کو دینا واجب ہے۔ زکوٰۃ صرف اصل 5 لاکھ پر ہو گی۔ واللہ اعلم۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh