صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #763 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

کیا حمل کی وجہ سے حج میں تاخیر کی اجازت ہے

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 11,820

سوال (Question):

کیا حمل کی وجہ سے حج میں تاخیر کی اجازت ہے

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

کیا حمل کی وجہ سے حج میں تاخیر کی اجازت ہے ؟

سوال : کیا حمل کی وجہ سے حج کی تاخیر کی اجازت ہے کہ اس سال نہ کرے اور آئندہ سال جب محرم دستیاب ہو تب کرے، جبکہ اس سال شوہر بھی حج کو جا رہا ہے لیکن ایام حج یا اس کے قریب میں وضع حمل کا امکان ہے اور عورت کو وضع حمل بذریعہ آپریشن ہی ہوتا ہے اور یہ پانچواں حمل ہے الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ یہ میاں بیوی حج کمیٹی کے نام ایک درخواست کے ذریعے اپنا عذر بیان کرکے اپنا سفر آخری فلائٹ سے کرا لیں تاکہ آپریشن کے بعد عورت اس وقت تک ٹھیک ہو کر سفر حج پر جا سکے، اور اگر ظن غالب ہو کہ آخری فلائٹ تک بھی صحت یاب ہوکر سفر کے لائق نہ ہوسکے گی تو معذور ہے، اور یہ غذر بھی اس کا اپنا اختیاری نہیں اس لئے بوجہ مجبوری اس سال حج کو نہ جانے پر گنہگار نہ ہوگی ۔ یہ حاملہ، ولادت کی ماہر لیڈی ڈاکٹر سے سمجھ لے وہ پیدائش کا جو وقت بتائے اس کے لحاظ سے وہ ماہر سرجن سے مشورہ کر کے آخری فلائٹ تک سفر حج کو جا سکتی ہے کہ نہیں ۔ پھر اس فیصلہ کے مطابق رکے یا حج کو جائے ۔ حج کمیٹی میں لیڈی ڈاکٹر اور سرجن دونوں کی صلاح تحریری طور پر پیش کرے تو اس عذر معقول کی وجہ سے اس کے سفر کا شیڈول بدل سکتا ہے یا منسوخ ہو سکتا ہے ۔ فقہا فرماتے ہیں ” الضرورات تبیح المحظورات ” مجبوری کے حالات ممنوع چیزوں کو مباح بنادیتے ہیں ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ کتبہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh