صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1837 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

کیا دور حاضر میں مالی تعزیر ڈالنا جائز ہے؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 12,094

سوال (Question):

کیا دور حاضر میں مالی تعزیر ڈالنا جائز ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

کیا دور حاضر میں مالی تعزیر ڈالنا جائز ہے؟

السلام علیکم ورحمة اللہ حضور مفتی صاحب آپ کی بارگاہ میں میرا یہ سوال عرض ہے کی کیا دور حاضر میں مالی تعزیر ڈالنا جائز ہے یعنی مساجد کے آئمہ حضرت کسی ڈھول بجانے پر یا دیگر غیر شرعی کاموں پر مالی تعزیر ڈالتے ہیں اور جمعہ کی نماز میں اعلان کردیا جاتا ہے ۔ کیا تعزیر ڈالنا جائز ہے ؟ تو تعزیر کون ڈال سکتا ہے مثلاً ہر مسجد کا امام جامع مسجد ؟ اور اگر جائز ہے جرمانے میں ملنے والا مال دین کس کس کام میں خرچ کر کیا جا سکتا ہے مثلاً ۔ مدرسہ ، مسجد ، یا میلاد النبی ﷺ کے پروگرام میں سائل:- دانش احمد محمودی خادم جامع مسجد عمر فاروق بھٹیاں تھنہ منڈی راجوری الجواب بعون الملك الوهاب مالی جرمانہ لینا جائز نہیں کیونکہ یہ منسوخ ہے اور منسوخ پر عمل جائز نہیں۔ البحر الرائق میں ہے”وفی شرح الآثار : التعزير بالمال كان في ابتداء الاسلام ثم نسخ اھ۰ والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال”(ج ۵ ص۶۸/المكتبة الشيعية) فتاوی رضویہ میں ہے “جرمانہ کے ساتھ تعزیر کہ مجرم کا کچھ مال خطا کے عوض لے لیا جائے منسوخ ہے اور منسوخ پر عمل جائز نہیں”(ج ۵ ص ۹۳۵) مذکورہ عبارات سے ثابت ہوا کہ تعزیر بالمال ناجائز ہے لہذا صورت مسؤلہ میں مساجد کے آئمہ حضرات کا ڈھول باجے وغیرہ غیر شرعی کاموں پر مالی جرمانہ لینا اگر اپنے ذاتی خرچ کے لیے ہو تو پھر اس کا لینا ہرگز جائز نہیں لیکن اگر اس کا لینا جبر و اکراہ کے طور پر نہ ہو اور یہ لینا اپنے لیے نہ ہو بلکہ کسی کار خیر کے لیے اس طور پر ہو کہ جرمانہ نہ دینے پر کسی مدرسہ یا انجمن وغیرہ میں شمولیت یا اس کی رکنیت یا اس کے علاوہ کسی اور سہولت سے محرومی ہو اور جس پر خود دینے والا بلا جبر و اکراہ رضامند ہو تو پھر اس کے لینے میں حرج نہیں ہے- فتاوی رضویہ میں ہے ” مگر صورت مذکورہ میں وہ جرمانہ انجمن والوں نے اپنے لیے لینا نہ قرار دیا بلکہ کسی کار خیر میں اس کا مصرف کرنا بتایا ہے اور اسکے لینے میں انجمن کی طرف سے کوئی جبر واکراہ نہیں-صرف اتنا قاعدہ قرار دیا ہے کہ جرمانہ نہ دے انجمن سے خارج کیا جائے تو انجمن میں داخل رہنے کے لیے جو شخص یہ رقم ادا کریگا بجبر وتعدی نہ ہوگا بلکہ اس کی اپنی رضا سے ہوگا کہ انجمن سے خارج ہونے میں اس کا کوئی ضرر نہ تھا اس نے باختیار خود اسے پسند کیا کہ یہ رقم اس سے لیکر کار خیر میں صرف ہو لہذا یہ قانون جرمانئہ ناجائزہ کی حد تک نہیں پہنچتا”(ج ۵ ص ۹۳۵ تا ۹۳۶) والله تعالى أعلم کتبہ:- محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ خطیب نور الایمان جامع مسجد اسلام پور تھنہ منڈی راجوری جموں وکشمیر-مقیم حال وادی کشمیر ۲۹/ذی قعدہ ۱۴۴۳ھ مطابق ۳۰/جون ۲۰۲۲ء الجواب صحيح : محمد نظام الدین قادری خادم درس و افتا جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh