صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1258 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

کیا سوئر (خنزیر) کا نام لینے سے چالیس دن تک زبان ناپاک رہتی ہے ؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 11,233

سوال (Question):

کیا سوئر (خنزیر) کا نام لینے سے چالیس دن تک زبان ناپاک رہتی ہے ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

کیا سوئر (خنزیر) کا نام لینے سے چالیس دن تک زبان ناپاک رہتی ہے ؟

مذہب اسلام میں سوئر کھانا حرام ہے اور اس کا گوشت ، پوست ، ہڈی ، بال ، پسینہ ، تھوک وغیرہ پورا بدن اور اس سے خارج ہونے والی ہر چیز ناپاک ہے ۔ اور بایں معنی اس سے نفرت کرنا ایمان کی پہچان اور مومن کی شان ہے ۔ لیکن کچھ لوگ بربنائے جہالت اس کا نام بھی زبان سے نکالنا برا جانتے ہیں ۔ یہاں تک کہ بعض نرے ان پڑھ گوار یہ تک کہ دیتے ہیں کہ جس نے اپنے منہ سے سوئر کا نام لیا چالیس دن تک اس کی زبان ناپاک رہتی ہے ۔ جہالت یہاں تک بڑھ چکی ہے کہ ایک مرتبہ ایک گاؤں میں امام صاحب نے مسجد میں تقریر کرتے وقت یہ کہہ دیا کہ شراب پینا ایسا ہی ہے جیسے سوئر کھانا تو لوگوں نے اس پر ہنگامہ کیا کہ انہوں نے مسجد میں سوئر کا نام کیوں لیا یہاں تک کہ اس جرم میں بیچارے امام صاحب کا حساب کردیا گیا۔ بھائیو! کسی بری سے بری چیز کا بھی برائی کے ساتھ نام لینا برا نہیں۔ ہاں اگر کسی بری چیز کو اچھی کہے ، حرام کو حلال کہے تو یہ یقیناً غلط ہے بلکہ بری چیز کی برائی بغیر نام لیے ہو بھی نہیں سکتی ، شیطان ، ابلیس ، فرعون ، ہامان ، ابولہب و ابوجہل وغیرہ کا نام بھی تو لیا جاتا ہے یہ ہوں یا اور دوسرے خدا اور رسول کے دشمن وہ سب کے سب سوئر سے بھی بدرجہا بدتر ہیں ، بلکہ ابلیس ، فرعون ، ہامان، اور ابولہب کا نام تو قرآن میں بھی ہے اور ہر قرآن پڑھنے والا ان کا نام لیتا ہے ۔ خدائے تعالی اور اس کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے جتنے دشمن ہیں ۔ اور ان کی بارگاہوں میں گستاخی اور بےادبی کرنے والے ہیں یہ سب سوئر سے کہیں زیادہ برے ہیں۔ یہ سب جہنم میں جائیں گے ۔ اور جانور کوئی بھی حرام ہو یا حلال وہ ہرگز جہنم میں نہیں جائے گا۔ بلکہ بعد حساب وکتاب کے بعد دفنا دیئے جائیں گے۔ خلاصہ یہ ہے کہ سوئر کا نام لے کر اس کے بارے میں حکم شرع سے آگاہ کرنا ہرگز کوئی برا کام نہیں خواہ مسجد میں ہو یا غیر مسجد میں۔ وعظ وتقریر میں یا گفتگو میں۔ آخر قرآن مجید میں بھی تو اک اس کا نام کئی جگہ آیا ہے ، کیونکہ عربی میں جس کو خنزیر کہتے ہیں اس کو ہندوستانی سوئر کہتے ہیں تو اگر نماز میں وہی آیتیں تلاوت کی گئیں جس میں سوئر کے حرام فرمانے کا ذکر ہے تو اس کا نام نماز میں بھی آئے گا اور مسجد میں بھی۔۔ ماخوز از : غلط فہمیاں اور ان کی اصلاح / علامہ تطہیر احمد بریلوی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh