صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1213 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

کیا عام برادری کا عالم سید زادی کا کفو ہو سکتاہے؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 5,827

سوال (Question):

کیا عام برادری کا عالم سید زادی کا کفو ہو سکتاہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

کیا عام برادری کا عالم سید زادی کا کفو ہو سکتاہے؟

السلام علیکم ورحمة اللہ برکاتہ علماء کرام کی بارگاہ میں ایک عریضہ بصورت سوال عرض ہے رہنمائی ہو کیا عام برادری کا عالم سید زادی کا کفو ہو سکتاہے؟ سائل :– محمد انصار مصباحی مدرس ۔۔۔۔مدرسہ مظہر العلوم نچلول _________ و علیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب بتوفیق الملک الوھاب عام برادری سے مراد اگر سماجی خسیس پیشےسے متعلق برادریاں ہیں ،اور مذکورہ پیشے سے قطع تعلق کۓہوۓ اتنے زمانےکسی برادری یا افراد کے گزر چکےہوں کہ عوام وخواص کے ذہن سے ان کا پیشہ محو ہو چکا ہو تو ایسا عالم دین سیدہ کا کفو ہو کر نکاح کے جواز کا حامل ہوگا۔رہا مذکورہ معانی کے اعتبار سے عامی برادریاں سیدہ کا کفو نہیں۔اور سوال کسی عالم وغیرہ سے مقید افراد کا نہیں۔تو ”السوال جواب فی المعاد“ کے پیش نظر جواب میں اولا یہ درج ہو”عام برادری بمعنئ مذکور سیدہ کا کفو نہیں اور ایسے نکاح کا بوجہ ننگ وعار والدین بطلان“شرعا ثابت ہے۔ سیدہ اگر نابالغہ ہو اور اس کا ولی باپ یا دادا اجازت دے تو نکاح غیر کفو میں ہوجائے گا – اور اگر بالغہ ہو تو اس کی اور اس کے ولی کی اجازت ضروری ہے ورنہ غیر کفو میں نکاح درست نہیں . ہاں اگر بالغہ ہو اور اس کا کوئی ولی نہیں تو اپنی مرضی سے غیر کفو میں نکاح کرسکتی ہے – جیساکہ فتاوی فقیہ ملت میں ہے کہ سید ہرقوم کی عورت سے نکاح کرسکتےہیں یوں ہی سیدہ کا نکاح قریش کے ہر خاندان میں ہوسکتاہے چاہے وہ علوی ہو یا عباسی یا جعفری یا صدیقی یا فاروقی یا عثمانی یا اموی اور انکے علاوہ مثلا مغل پٹھان یا انصاری ان میں جو عالم دین معظم مسلمین ہو یا نہ ہو سیدہ بالغہ ان سے نکاح کرسکتی ہے بشرطیکہ اس کے ولی کےلۓ عارنہ ہو یعنی جسکا پیشہ اور خاندان اچھا ہو اور ذلیل پیشہ اور قوم کا آدمی نہ ہو اور اگر ایسی برادری کا آدمی ہے جس کا پیشہ انتہائی ذلیل ہو کہ سید برادری کےلوگ ایسی پیشہ وری سےننگ وعار کرتےہیں تو اگرچہ مفتی وشیخ الحدیث کیوں نہ ہو سید برادری کا کفو نہیں ہوسکتا۔ اور اگر سیدہ نابالغہ ہے اور قریشی کے علاوہ قوم میں نکاح کرنے ولا اسکا باپ اسکا یادادا نہ ہوتو یہ نکاح محض باطل ہوگا اور اگر باپ یادادا نابالغہ سیدہ لڑکی کا نکاح ایسے ہی پہلے کرچکےہیں تو انکا کیا ہوا نکاح سیدہ کا غیر سید کے ساتھ صحیح نہ ہوگا اور اگر بالغہ ہےاور اسکا کوٸ ولی نہیں ہے تو وہ اپنی رضا مندی سے اپنا نکاح غیر سید سے کرسکتی ہے اور اگر اسکا ولی باپ یا دادا انکی اولاد ونسل سے کوٸ مرد موجود ہے تو اگر اس کو غیر سید جان کر قبل از نکاح صراحتہً نکاح کی اجازت دیدیں جب ہی جاٸز ہوگا ورنہ سیدہ بالغہ کا کیا ہوا نکاح غیر سید کے ساتھ محض باطل ہوگا ۔۔ ایساہی فتاوی رضویہ جلد پنجم صفحہ ٤٥٢ تا ٤٥٤پر موجود ہے۔ (فتاوی فقیہ ملت جلد اول صفحہ ٤١٢۔۔مکتبہ شبیر برادرز) واللہ تعالی اعلم بالصواب کتبــــــہ : مفتی منظور عالم قادری،خادم التدریس دارالعلوم معین الاسلام چھتونہ میگھولی کلاں مہراجگنج یوپی۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh