صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1716 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

کیا عرس کے لیے چندہ کرنا جائز ہے؟ از مفتی محمد نظام الدین قادری

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 4,922

سوال (Question):

کیا عرس کے لیے چندہ کرنا جائز ہے؟ از مفتی محمد نظام الدین قادری

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

کیا عرس کے لیے چندہ کرنا جائز ہے؟

السلام علیکم و رحمۃ اللہ کیا پسے مانگ کر کسی بزرگ کا عرس کروانا جائز ہے؟ سائل : محمد جاوید رضا. الجواب عرس میں مذہبی تقریری پروگرام اور زائرین کی ضیافت وغیرہ جائز و مستحب امور کے لیے چندہ کرنا جائز ہے، ہاں! مزامیر کے ساتھ قوالی یا دیگر مروجہ غیر شرعی امور کے لیے چندہ کرنا ناجاٙئز ہے اور مانگنے اور دینے والے دونوں گنہگار ہوں گے۔ارشادِ باری تعالی ہے: وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ ۖ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ۔ (سورہ مائدہ : آیت ٢) اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: “جوچندہ دیاجائے فاتحہ ونیاز شہدائے کرام میں صرف کیاجائے جبکہ چندہ دہندوں کی اجازت ہو کہ یہ( یعنی: چندہ دہندوں کی اجازت) ضروری چیز ہے۔” (فتاوی رضویہ جدید ٢۴/ ١۴۴) واللہ سبحانہ و تعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ٧/رمضان المبارک ١۴۴٣ھ// ٩/اپریل ٢٠٢٢ء

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh