صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1327 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

کیا عورت اپنے شوہر سے جائداد میں حصہ مانگ سکتی ہے ؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 8,706

سوال (Question):

کیا عورت اپنے شوہر سے جائداد میں حصہ مانگ سکتی ہے ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

کیا عورت اپنے شوہر سے جائداد میں حصہ مانگ سکتی ہے ؟ طلاق سے متعلق ایک اہم مسئلہ

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کی شادی کو تقریباً تیس سال ہوگئے ہیں، مگر مشیت خداوندی سے زید کی کوئی اولاد نہیں ہوئی،(میڈیکل رپورٹ کے مطابق کمی زید کی بیوی میں ہے) زید کی بیوی اولاد نہ ہونے کی وجہ سے زید سے لڑتی رہتی ہے،اور اس کا کہا نہیں مانتی، اور بارہا طلاق کا مطالبہ کرتی رہتی ہے،یہاں تک کہ اب اس نے طلاق لینے کا مکمل فیصلہ کرلیا، مگر زید کی جائیداد سے حصے کا مطالبہ کر رہی ہے جب کہ جائیداد میں اس کی حصہ داری بھی نہیں، واضح رہے کہ زید نے اپنی بیوی کو تیس تولہ سونا بھی دے رکھا ہے جس کا اسے مالک بنالیا گیا ہے، تو کیا زید کی بیوی کا جائیداد سے حصہ طلب کرنا درست ہے ۔ نیز شریعت مطہرہ کی روشنی میں بیان فرمائیں۔ سائل : ذاکر اللہ ،نہرو نگر کرلا ایسٹ ممبئی22 الجواب بعون الملک الوھاب نکاح کے بعد شوہر پر اس کی حیات میں حسب حیثیت عورت کا نان ونفقہ واجب ہے . اس کے علاوہ شوہر کے مال میں بیوی کا کوئی حق حصہ نہیں،ہاں جو کچھ شوہر بیوی کو دے دے تو وہ ہدیہ ہوگا، قبضہ کے بعد عورت اس کی مالک ہوگی، لہذا صورت مسئولہ میں عورت کا شوہر کی جائیداد سے حصہ مانگنا ناجائز ہے. قرآن مجید میں ہے : لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اکْتَسَبُوْا وَلِلنِّسَآء نَصِیْبٌ مِمَّا اکْتَسَبْنَ} (النساء : ۳۲) دوسری جگہ ارشاد ہے : وَلَا تَأْكُلُوٓاْ أَمْوَٰلَكُم بَيْنَكُم بِٱلْبَٰطِلِ وَتُدْلُواْ بِهَآ إِلَى ٱلْحُكَّامِ لِتَأْكُلُواْ فَرِيقًا مِّنْ أَمْوَٰلِ ٱلنَّاسِ بِٱلْإِثْمِ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ”(البقرۃ :١٨٨) تفسیر قرطبی میں اس آیت کی تفسیر میں ہے: ” الخطاب بهذه الآية يتضمن جميع أمة محمد صلى الله عليه وسلم ، والمعنى : لا يأكل بعضكم مال بعض بغير حق ، فيدخل في هذا : القمار والخداع والغصوب وجحد الحقوق ، وما لا تطيب به نفس مالكه ، أو حرمته الشريعة وإن طابت به نفس مالكه ، كمهر البغي وحلوان الكاهن وأثمان الخمور والخنازير وغير ذلك ، ولا يدخل فيه الغبن في البيع مع معرفة البائع بحقيقة ما باع لأن الغبن كأنه هبة ، على ما يأتي بيانه في سورة ” النساء ” ، وأضيفت الأموال إلى ضمير المنهي لما كان كل واحد منهما منهيا ومنهيا عنه ، كما قال : ولا تقتلوا أنفسكم . وقال قوم : المراد بالآية ولا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل أي في الملاهي والقيان والشرب والبطالة ، فيجيء على هذا إضافة المال إلى ضمير المالكين. حدیث شریف میں ہے: “أَلَا لا تَظْلِموا, أَلَا لا يَحِلُّ مالُ امرِىءٍ إلا بِطِيبِ نفسٍ منه” (مشکوۃ، حدیث رقم: ٢٨٧٥) فتاویٰ شامی میں ہے: ” لا یجوز لأحد من المسلمین أخذ مال أحد بغیر سبب شرعي ” (۶/۷۷، کتاب الحدود، باب التعزیر ، مطلب في التعزیر بأخذ المال ، البحر الرائق : ۵/۶۸، کتاب الحدود ، فصل في التعزیر) ہاں طلاق کے بعد دوران عدت شوہر پر بیوی کا نان ونفقہ واجب ہے. قرآن مجید میں ہے : “أَسْكِنُوْهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُمْ مِنْ وُّجْدِكُمْ وَلَا تُضَارُّوْهُنَّ لِتُضَيِّقُوْا عَلَيْهِنَّ”. (سورة الطلاق: ٦) دوسری جگہ ہے: “لِیُنۡفِقۡ ذُوۡ سَعَۃٍ مِّنۡ سَعَتِہٖ ؕ وَ مَنۡ قُدِرَ عَلَیۡہِ رِزۡقُہٗ فَلۡیُنۡفِقۡ مِمَّاۤ اٰتٰىہُ اللّٰہُ ؕ لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفۡسًا اِلَّا مَاۤ اٰتٰىہَا ؕ سَیَجۡعَلُ اللّٰہُ بَعۡدَ عُسۡرٍ یُّسۡرًا. (سورة الطلاق: ٧) فتاویٰ ہندیہ میں ہے: “ويعتبر في هذه النفقة ما يكفيها وهو الوسط من الكفاية وهي غير مقدرة لأن هذه النفقة نظير نفقة النكاح فيعتبر فيها ما يعتبر في نفقة النكاح”. (ج: ۱، ص: ۵۵۸) فتاویٰ تتارخانیہ میں ہے: “أجمع العلماء علیٰ أن المطلقۃ طلاقاً رجعیاً تستحق النفقۃ والسکنی أیضاً مادامت العدۃ قائمۃ سواء کانت حاملاً أو حائلاً۔ وأما المبتوتۃ فلہا النفقۃ والسکنیٰ أیضاً وہذا مذہبنا” (ج: ٥، ص: ۳۹۹) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب کتبہ : کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh