صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1647 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

کیا قاضی اپنی مرضی سے نکاحانہ رقم یعنی روپیہ پیسہ مانگ سکتا ہے ؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 6,656

سوال (Question):

کیا قاضی اپنی مرضی سے نکاحانہ رقم یعنی روپیہ پیسہ مانگ سکتا ہے ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

کیا قاضی اپنی مرضی سے نکاحانہ رقم یعنی روپیہ پیسہ مانگ سکتا ہے ؟

حضرت ایک سوال یہ ہے کہ نکاح کا قاضی ( نکاح خواں ) نکاح پڑھاتا ہے تو عوام اس سے پوچھتی ہے کہ کتنا رقم لیں گے تو کیا قاضی اپنی مرضی سے رقم یعنی روپیہ پیسہ مانگ سکتا ہے ؟ المستفتی محمد ارشاد اکبر پور یوپی انڈیا۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب بعون الملک الوھاب مانگ سکتا ہے کہ نکاح پڑھانے کی اجرت لینا اس کا حق ہے اور ہر حقدار اپنا حق مانگ کر لے سکتا ہے۔ فتاوی عالمگیری میں ہے: “وکل نکاح باشرہ القاضی… ومالم تجب مباشرتہ علیہ حل لہ أخذ الاجرة عليه ” اھ ملخصاً ( جلد 3 صفحہ 328 کتاب ادب القاضی ، باب فی اقوال القاضی وما ینبغی للقاضی ان یفعل ، مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان ) یعنی ہر وہ نکاح جسے قاضی خود پڑھائے. جب کہ اس پر اس نکاح کا پڑھانا واجب نہ ہو تو اسے اجرت لینا جائز ہے۔ فتاوی مرکز تربیت افتاء میں ہے: ” نکاح خواں کو نکاح خوانی کے عوض مقررہ روپیہ لینا اور اس کے لئے روپیہ متعین کرنا جائز ہے اعلی حضرت رضی اللہ تعالی عنہ کے فتاوی رضویہ (قدیم) کے جلد پنجم صفحہ 171 کے ایک فتوی سے یہی مستفاد ہے ” اھ ( جلد اول کتاب النکاح صفحہ 525/526 ) کتبہ گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی ۔ صدر میرانی دار الافتاء و شیخ الحدیث جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔ 16 شعبان المعظم 1443ھ

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh