Fatwa #1691
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
کیا مردہ بکری غیر مسلم سے بیچنا جائز ہے؟
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
11,955
سوال (Question):
کیا مردہ بکری غیر مسلم سے بیچنا جائز ہے؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
کیا مردہ بکری غیر مسلم سے بیچنا جائز ہے؟
۔کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ زید بکریوں کا کاروبار کرتا ہے ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل کر نے کی وجہ سے کچھ جانور مرجاتے ہیں۔ تو کیا ان مرے ہوئے جانوروں کو زید کسی غیر مسلم کے ہاتھوں فروخت کر سکتا ہے؟ اور اس سے حاصل شدہ رقم اپنی ضروریات کے لیے استعمال کرسکتا ہے؟ شریعت کی روشنی میں جواب عنایت فرما کر عنداللہ ماجور ہوں. سائل: حافظ محمد ضیاء الحق رضوی ممبئی الجواب اگر کوئی غیر مسلم ان مرے ہوئے جانوروں کو خریدے تو اس کا بیچنا اور اس سے حاصل شدہ رقم کو اپنی ضروریات کے لیے استعمال کرنا جائز ہے، لیکن مردار کے مال نہ ہونے کے سبب مسلمان سے اس کو بیچنا باطل ہے واضح رہے کہ یہاں کے کفار کا مال عقودِ فاسدہ سے حاصل کرنا جائز ہے جب کہ غدر و بد عہدی نہ ہو۔ امام اہلِ سنت اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: ” فلا یحرم علینا معھم الا الغدر ،فاذا جاوزتہ، واخذت منھم ما اخذت باسم ایّ عقد اردت فقد اخذت مالا مباحا، لا تبعۃ علیک فیہ، کما راھن الصدیق الاکبر علیہ الرضوان الاکبر کفار مکۃ فی غلبۃ الروم واخذ مالھم باذنہ علیہ وعلی اٰلہ افضل الصلوٰۃ والسلام ، فانما جاز لعدم العصمۃ والا لکان قمارا محرما، فہذا ھو الاصل المطرد فی ھذا الباب، ومن اتقنہ تیسر علیہ استخراج الجزئیات، وقد فصلنا القول فیہ فی فتاوٰنا” (فتاوی رضویہ ج ٧ص١١۵) اور تحریر فرماتے ہیں: “جو کافرنہ ذمی ہو نہ مستامن سوا غدر و بدعہدی کے کہ مطلقاً ہر کافر سے بھی حرام ہے باقی اس کی رضا سے اس کا مال جس طرح ملے جس عقد کے نام سے ہو مسلمان کے لئے حلال ہے ،وقد فصلناہ فی فتوٰنا بمالامزید علیہ۔” (فتاوی رضویہ ج٧ ص ١٠۵) ہاں! اگر کھال نکال کر دباغت دے دیا جائے تو مسلمان سے بھی صرف اس کھال کا بیچنا جائز ہوگا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:” ایما اھاب دبغ فقد طھر” رواہ الترمذی وابن ماجة والشافعی وابن حبان واحمد والبزار وغیرھم رحمھم اللہ تعالی عن ابن عباس رضی اللہ تعالی عنھما، وعند مسلم بلفظ:” اذا دبغ الاھاب فقد طھر”(درایہ مع ہدایہ ج ١ ص٢۴) ھدایہ میں ہے: “وکل اھاب دبغ فقد طھر وجازت الصلاة فیہ والوضوء منی الا جلد الخنزیر والآدمی لقولہ علیہ السلام: “ایما اھاب دبغ فقد طھر، وھو بعمومہ حجة علی مالک فی جلد المیتة، ولا یعارض بالنھی الوارد عن الانتفاع من المیتة وہو قولہ علیہ السلام: “لا تنتفعوا من المیتة باھاب، لانہ اسم لغیر المدبوغ” (ھدایہ ج١ ص٢۴) واللہ سبحانہ و تعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ۴/رمضان المبارک | ١۴۴٣ھ// ٦/اپریل ٢٠٢٢ء
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
12
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9