صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #671 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

کیا مرد چھلا پہن سکتا ہے ؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 11,274

سوال (Question):

کیا مرد چھلا پہن سکتا ہے ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

کیا مرد چھلا پہن سکتا ہے ؟

الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــ شریعت میں مرد کے لئے چاندی کی ساڑھے چار ماشے سے کم والی انگوٹھی پہننے کی اجازت ہے مگر چھلا پہننے کی اجازت نہیں ہے, جس حلقہ (رِنگ) میں نگ نہ ہو اس کو چھلا کہاجاتا ہے اور چھلا پہننا مرد کے لئے جائز نہیں ہے خواہ چاندی کا ہو یا کسی اور دھات کا ۔ چنانچہ سیدی اعلحضرت امام احمد رضا خان رضی اللہ عنہ سے جب چھلے کے متعلق سوال کیا گیا کہ کیا مرد چھلا پہن سکتا ہے ؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے جواباً ارشاد فرمایا : “حرام ہے ” ۔ (فتاوی رضویہ جلد 22 صفحہ 147 رضا فاؤنڈیشن لاہور) صدرالشریعہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : “انگوٹھی وہی جائز ہے جو مردوں کی انگوٹھی کی طرح ہو یعنی ایک نگینہ کی ہو اور اگر اس میں کئی نگینے ہوں تو اگرچہ وہ چاندی ہی کی ہو مرد کے لئے ناجائز ہے, اسی طرح مردوں کے لیے ایک سے زیادہ انگوٹھی پہننا یا چھلے پہننا بھی ناجائز ہے کہ یہ انگوٹھی نہیں , عورتیں چھلے پہن سکتی ہیں” ۔ (بہارشریعت جلد3 حصہ 16 صفحہ 427,428 مکتبۃ المدینہ کراچی) واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم والسلام کتبــــــــــہ : مفتی ابو اسید عبیدرضامدنی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh