صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #888 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

کیا مسبوق مکبر بن سکتا ہے؟ / نماز کے مسائل

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 6,184

سوال (Question):

کیا مسبوق مکبر بن سکتا ہے؟ / نماز کے مسائل

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

کیا مسبوق مکبر بن سکتا ہے؟

الجوابــــــــــــــــــــ مسبوق مکبر بن سکتا ہے لیکن اس کو بچنا چاہئے، اور ایسے شخص کو مکبر بننا چاہیے جو شروع نماز سے امام کے ساتھ رہے، ہر آدمی کو مکبر بننا بھی نہیں چاہیے بلکہ اس کو بننا چاہیے جس کو نماز کے مسائل ٹھیک سے یاد ہوں کیونکہ جو لوگ ان پڑھ ہوتے ہیں اور جنہیں مسائل معلوم نہیں ہوتے وہ جب تکبیر کہتے ہیں تو کچھ صورتوں میں نماز فاسد ہو جاتی ہے ۔ اس لیے جن لوگوں کو یہ ذمہ داری سونپی جائے وہی تکبیر کہیں اور جو شروع ہی سے شامل نماز ہو وہ کہے ۔ یہ تکبیر حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کی سنت کریمہ ہے اور وہ بڑے زبردست عالم و فقیہ بلکہ انبیاء کرام کے بعد مسلمانوں میں سب سے زیادہ علم و فضل والے تھے ۔ اور جس نماز میں انہوں نے تکبیر کہی اس میں شروع ہی سے شریک تھے، تو جو شخص آپ کا نائب ہو یعنی صاحب علم و فضل ہو وہ اس لائق ہے کہ مکبر بنے، اس لیے مسائل نماز سے واقف علماء، حفاظ، و قراء اس منصب کے زیادہ حقدار ہیں اور انہیں کو یہ ذمہ داری قبول کرنی چاہیے ۔ واللہ تعالی اعلم علم کتبـــــــــــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh