صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1701 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

کیا منگنی کی چیز چوری ہوجانے پر اس کا تاوان دینا ہوگا؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 13,120

سوال (Question):

کیا منگنی کی چیز چوری ہوجانے پر اس کا تاوان دینا ہوگا؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

کیا منگنی کی چیز چوری ہوجانے پر اس کا تاوان دینا ہوگا؟

السلام علیکم ایک سوال عرض ہے کہ اگر کوئی شخص مانگ کر کوئی چیز لاے اور وہ چیز پھر اس کے یہاں سے چوری ہوجاے تو کیا مانگنے والے شخص پر اسکی قیمت ادا کرنا لازم ہوگی؟ سائل : محمد مزمل الجواب منگنی (عاریت) کی چیز اگر چوری ہوجائے تو اگر مانگ کر لانے والے نے اس کی حفاظت میں کمی نہیں کی ہے اور وہ چیز چوری ہوگئی تو اس کا ضمان یعنی قیمت کا تاوان ادا کرنا واجب نہیں ہوگا اگرچہ لیتے وقت یہ شرط لگادی گئی ہو کہ چوری ہونے یا کسی طرح ضائع ہونے پر بھی تاوان دینا ہوگا۔ اور اگر مانگنے والے نے حفاظت میں کمی کی اور وہ چیز چوری ہوگئی تو تاوان دینا ہوگا۔ صدر الشریعہ علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمہ اللہ القوی تحریر فرماتے ہیں: “عاریت کا حکم یہ ہے کہ چیز مستعیر (مانگنے والے) کے پاس امانت ہوتی ہے اگرمستعیر نے تعدّی نہیں کی ہے اور چیز ہلاک ہوگئی، توضمان واجب نہیں۔” (بہار شریعت جلد سوم ح ١۴ ص ۵٦) نیز تحریر فرماتے ہیں: “عاریت ہلاک ہوگئی اگر مستعیر نے تعدّی نہیں کی ہے یعنی اُس سے اُسی طرح کام لیا جو کام کا طریقہ ہے اورچیز کی حفاظت کی اور اُس پر جو کچھ خرچ کرنا مناسب تھا خرچ کیا تو ہلاک ہونے پر تاوان نہیں، اگرچہ عاریت دیتے وقت یہ شرط کرلی ہو کہ ہلاک ہونے پر تاوان دینا ہوگا ، کہ یہ باطل شرط ہے۔ جس طرح رہن میں ضمان نہ ہونے کی شرط باطل ہے۔۔۔ تعدّی کی بعض صورتیں یہ ہیں: بہت زورسے لگام کھینچی ، یا ایسا مارا کہ آنکھ پھوٹ گئی ، یا جانور پر اتنا بوجھ لاد دیا کہ معلوم ہے ایسے جانور پر اتنا بوجھ نہیں لادا جاتا، یا اتنا کام لیا کہ اُتنا کام نہیں لیا جاتا۔ گھوڑے سے اُتر کر مسجد میں چلاگیا گھوڑا وہیں راستہ میں چھوڑ دیا وہ جاتا رہا، جانور اس لیے لیا کہ فلاں جگہ مجھے سوار ہو کر جانا ہے اور دوسری طرف نہر پر پانی پلانے لے گیا۔ بیل لیا تھا ایک کھیت جوتنے کے لیے اُس سے دوسرا کھیت جوتا، اس بیل کے ساتھ دوسرا اعلیٰ درجہ کا بیل ایک ہل میں جوت دیا اور ویسے بیل کے ساتھ چلنے کی اس کی عادت نہ تھی اور یہ ہلاک ہوگیا۔ جنگل میں گھوڑا لیے ہوئے چت سوگیا اور باگ ہاتھ میں ہے اور کوئی شخص چُرا لے گیا۔ اور بیٹھا ہوا سویا تو ضمان نہیں۔ اور اگر سفر میں ہوتا تو چاہے لیٹ کر سوتا یا بیٹھ کر اس پر ضمان نہیں ہوتا۔ مستعار چیز سر یا کروٹ کے نیچے رکھ کر چت سو گیا ضمان نہیں۔” (بہار شریعت باختصار، جلد سوم ح١۴ ص۵٧) واللہ سبحانہ و تعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ۵/رمضان المبارک ١۴۴٣ھ// ٧/اپریل ٢٠٢٢ء

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh