صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #669 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

کیا مور کھانا حلال ہے ؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 11,062

سوال (Question):

کیا مور کھانا حلال ہے ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

کیا مور کھانا حلال ہے ؟

الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ جی ہاں! مور کھانا حلال ہے. چنانچہ فتاوی عالمگیری میں ہے : “ولابأس باکل الطاؤوس وعن الشعبی یکرہ اشد الکراھۃ وبالاول یفتی کذا فی الفتاویٰ الحامدیہ ” یعنی مور کھانے میں حرج نہیں ہے اور امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ وہ مور کھانے کو بہت سخت مکروہ قرار دیتے تھے اور پہلے قول پر (مور کے حلال ہونےپر) فتویٰ دیا جاتا ہے ایسے ہی فتاوی حامدیہ میں ہے. (فتاویٰ عالمگیری جلد 5 صفحہ 358 قدیمی کتب خانہ کراچی ) اسی طرح میزان الشعرانی اور فتاوی برہنہ میں بھی مور کھانے کو حلال لکھا گیا ہے. واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم والسلام کتبــــــــــــــــہ : مفتی ابو اسید عبیدرضامدنی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh