صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1331 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

کیا نابالغ لڑکا اقامت کہہ سکتا ہے؟ از مفتی محمد نظام الدین قادری

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 9,130

سوال (Question):

کیا نابالغ لڑکا اقامت کہہ سکتا ہے؟ از مفتی محمد نظام الدین قادری

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

کیا نابالغ لڑکا اقامت کہہ سکتا ہے؟

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ سوال:کیافرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان شرح متین اس مسئلہ میں کہ آٹھ یا دس یا بارہ یا گیارہ یا تیرہ سال کے لڑکے تکبیر پڑھ سکتے ہیں جبکہ وہ دوسرے لوگ ڈاڑھی والے موجود ہوتے ہیں پھر بھی یہ لڑکے ہی پڑھتے ہیں کیایہ درست ہے حوالہ کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں نوازش ہوگی۔ المستفتی: جمال احمد قادری ممبئ ۔ الجوابــــــــــــــــــــــــ سمجھ دار نابالغ لڑکے کا اقامت اور اذان کہنا اور موذن مقرر کرنا بھی درست ہے۔ہاں! بالغ ہونا افضل ہے اور ناسمجھ بچے کی اذان کا تو شرعاً اعتبار ہی نہیں ہے ۔ لہذا اگر ناسمجھ بچے نے اذان کہی دوبارہ اذان دی جائے اور ناسمجھ بچہ سے اقامت نہ کہلوائی جائے، لیکن اگر ناسمجھ بچے نے اقامت کہہ دی تو دوبارہ اقامت نہیں کہی جائے گی۔ فتاوی عالم گیری میں ہے: “أَذَانُ الصَّبِيِّ الْعَاقِلِ صَحِيحٌ مِنْ غَيْرِ كَرَاهَةٍ فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ وَلَكِنْ أَذَانُ الْبَالِغِ أَفْضَلُ وَأَذَانُ الصَّبِيِّ الَّذِي لَا يَعْقِلُ لَا يَجُوزُ وَيُعَادُ وَكَذَا الْمَجْنُونُ. هَكَذَا فِي النِّهَايَةِ.” (فتاوی عالم گیری ج١ ص۵۴) علامہ علاو الدین حصکفی رحمہ اللہ القوی تحریر فرماتے ہیں: “(وَيَجُوزُ) بِلَا كَرَاهَةٍ (أَذَانُ صَبِيٍّ مُرَاهِقٍ )” (در مختار ج٢ ص۵٩ ) اسی میں ہے: “(وَكَذَا) يُعَادُ (أَذَانُ امْرَأَةٍ وَمَجْنُونٍ وَمَعْتُوهٍ وَسَكْرَانِ وَصَبِيٍّ لَا يَعْقِلُ) لَا إقَامَتُهُمْ لِمَا مَرَّ”۔ (ایضا ص٦١ ) علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: “(قَوْلُهُ: صَبِيٍّ مُرَاهِقٍ) الْمُرَادُ بِهِ الْعَاقِلُ وَإِنْ لَمْ يُرَاهِقْ كَمَا هُوَ ظَاهِرُ الْبَحْرِ وَغَيْرِهِ، وَقِيلَ يُكْرَهُ لَكِنَّهُ خِلَافُ ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ كَمَا فِي الْإِمْدَادِ وَغَيْرِهِ، وَعَلَى هَذَا يَصِحُّ تَقْرِيرُهُ فِي وَظِيفَةِ الْأَذَانِ بَحْرٌ.” (رد المحتار مع الدر ج٢ص۵٩) البتہ نابالغ اگرچہ سمجھدار ہو بالغوں کا امام نہیں ہوسکتا، ہاں سمجھ والا نابالغ لڑکا نابالغوں کا امام بھی ہوسکتا ہے۔ حضور صدر الشریعہ علامہ مفتی محمد امجد علی رحمہ اللہ تعالی تحریر فرماتے ہیں: “نابالغوں کے امام کے لیے بالغ ہونا شرط نہیں ، بلکہ نابالغ بھی نابالغوں کی اِمامت کر سکتا ہے، اگر سمجھ والا ہو۔” (بہار شریعت ح ٣ ص۵٦۵) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔ کتبہ: محمد نظام الدین قادری: خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ٢٩/جمادی الآخرہ ١۴۴٣ھ//٣١/جنوری ٢٠٢٢ء

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh