صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1192 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

کیا نماز نہ پڑھنے والا کافر ہے؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 13,495

سوال (Question):

کیا نماز نہ پڑھنے والا کافر ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

کیا نماز نہ پڑھنے والا کافر ہے؟

سوال : جو مسلمان نماز نہیں پڑھتا وہ کافر ہے؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں نوازش ہوگی. الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــ جو مسلمان نماز نہیں پڑھتا وہ کافر نہیں بلکہ مسلمان ہی ہے لیکن سخت گناہ گار مستحق عذاب نار ہے. حدیث شریف میں ہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں : خمس صلوات كتبهن الله على العباد، من جاء بهن لم يضيع منهن شيئا استخفافا بحقهن كان له عند الله عهد ان يدخله الجنة، ومن لم يات بهن فليس له عند الله عهد إن شاء عذبه وإن شاء ادخله الجنة”. یعنی پانچ نمازیں خدا نے بندوں پر فرض کیں جو اسے پڑھے اس کے لئے اللہ عزوجل کے پاس عہد ہے کہ اسے جنت میں داخل کرے اور جو انہیں نہ پڑھے اس کے لئے خدا کے پاس کوئی عہد نہیں مگر چاہے تو اسے عذاب دے اور چاہے تو جنت میں داخل کرے. (نسائی صفحہ 80 جلد 1) اس حدیث سے واضح ہے کہ بے نمازی مسلمان ہے اگر کافر ہوتا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ نہ فرماتے کہ تارک نماز کو اللہ تعالی چاہے عذاب دے اور چاہے تو جنت میں داخل کرے ایسا ہی فتاویٰ رضویہ صفحہ 191 جلد ٢ میں بھی ہے. جماہیر علمائے دین و ائمہ معتمدین تارک نماز کو سخت فاجر جانتے ہیں مگر دائرہ اسلام سے خارج نہیں کہتے. حضرت امام اعظم ابو حنیفہ حضرت امام شافعی اور حضرت امام مالک رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کا بھی یہی مذہب ہے اور حضرت امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالی عنہ سے بھی ایک روایت میں یہی ہے کہ بے نمازی کافر نہیں. اعلیٰ حضرت محدث بریلوی رضی اللہ تعالٰی عنہ حلیہ کے حوالے سے تحریر فرماتے ہیں ” ذھب الجمھور منھم اصحابنا ومالک والشافعی واحمد روایۃ الی انہ لا یکفر (فتاوی رضویہ صفحہ ٩٠ ج ٢) خلاصہ یہ ہے کہ بے نمازی مسلمان ہے مگر سخت فاسق ہے کافر نہیں. درمختار میں ہے ” وتارکھا عمدا مجانۃ ای تکاسلا فاسق ” ١ھ. (ص ٥٩ ج ١) واللہ تعالی اعلم کتبہ : مفتی غلام نبی نظامی علیمی الجواب صحیح : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh