صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #127 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

کیا نکاح کا نذرانہ سارے اساتذہ مل کر لے سکتے ہیں از مفتی محمد نظام الدین قادری

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 5,522

سوال (Question):

کیا نکاح کا نذرانہ سارے اساتذہ مل کر لے سکتے ہیں از مفتی محمد نظام الدین قادری

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

نکاح خوانی کے نذرانے سے متعلق ایک صورت کا حکم


السلام علیکم ورحمتہ اللہ

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مسئلہ ذیل میں کہ زید امام ہے زید کی غیر موجودگی میں بکر نماز پڑھاتا ہے ۔ اس بکر نے نکاح پڑھایا تو اس نکاح کی اجرت زید کو لینا کیسا ہے ۔ بینوا توجروا.


الجواب:

       اگر نکاح بکر نے پڑھایا اورنکاح کا نذرانہ دینے والے نے وہ نذرانہ صرف بکر کو دیا تو بکر کی رضامندی کے بغیر وہ نذرانہ زید کو لینا ناجائزوحرام ہے۔ اللہ جل شانہ کا ارشاد ہے: “ولا تاکلوا اموالکم بینکم بالباطل” (اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق طور پر نہ کھاو ۔

سورہ بقرہ: آیت ١٨٨)

    البتہ بعض جگہوں پر یہ رواج ہے کہ کسی مدرسہ میں پڑھانے والے تمام مدرسین نکاح کا نذرانہ آپس میں تقسیم کرتے ہیں ۔ اور اس رواج اور عمل درآمد کی وجہ سے لوگ نکاح کا نذرانہ اسی نیت سے دیتے ہیں کہ تمام مدرسین اس کو تقسیم کرلیں تو وہاں اس رواج اور تعامل کی وجہ سے نکاح نہ پڑھانے والا مدرس بھی نذرانہ میں شریک ہوگا؛ فان المعہود کالمشروط۔ ۔

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔

کتبہ:محمد نظام الدین قادری: خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی۔بستی۔ یوپی۔

١٠/شوال المکرم ١۴۴٢ھ//٢٣/مئی ٢٠٢١ء

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh