صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1399 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

کیا ولدالزنا کوحرامی کہہ سکتے ہیں؟ از مفتی سید نعمان احمد

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 7,292

سوال (Question):

کیا ولدالزنا کوحرامی کہہ سکتے ہیں؟ از مفتی سید نعمان احمد

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

کیا ولدالزنا کوحرامی کہہ سکتے ہیں؟

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ ایک جماعت کا کہنا ہے جو بچہ زنا سے پیدا ہوا اس کوحرامی کہا جائے گا اور ایک جماعت کا کہنا ہے کہ حرامی نہیں کہا جائے گا گزارش یہ ہے کہ کون جماعت حق پر ہے قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں. الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــ زنا سے جو بچہ پیدا ہوا اسے حرامی کہہ کر ہرگز نہیں پکارنا چاہیے کہ اس سے اس کو تکلیف پہنچے گی اور مومن کو تکلیف دینا حرام ہے. اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے حدیث پاک میں ہے ” من آذی مسلما فقد آذانی ومن آذانی فقد آذی اللہ “ جس نے کسی مسلمان کو ناحق ایذا دی اس نے مجھ کو ایذا دیا اور جس نے مجھ کو ایذا دیا اس نے اللہ کو ایذا دیا. ( کنزالعمال جلد 16 صفحہ 10) اور فتاوی مصطفویہ میں ہے زنا سے جو بچہ پیدا ہوا وہ ضرور ولد الزنا ہے مگر اسے اس طرح کہنا کہ ناحق ایذا پہنچے یہ ہرگز نہیں چاہیے جیسے کانے کو کانا کہنا. ١ھ. (جلد ١ صفحہ 537) اس میں بچے کا کوئی قصور نہیں قصور تو اس زانی اور زانیہ کا ہے. اس لئے بچہ کو ولدالزنا نا یا حرامی کہنے سے بچی واللہ تعالی اعلم کتبہ : مفتی سید نعمان احمد الجواب صحیح :مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh