Fatwa #795
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
کیا کافر کو قرض دے کر اس سے سود لے سکتے ہیں ؟
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
5,477
سوال (Question):
کیا کافر کو قرض دے کر اس سے سود لے سکتے ہیں ؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
کیا کافر کو قرض دے کر اس سے سود لے سکتے ہیں ؟
سوال : کیا کافر کو قرض دے کر اس سے زیادہ لینا جائز ہے جبکہ مومن سے نہیں ۔ اور یہ معلوم نہیں کہ وہ کونسا کافر ہے، حربی، ذمی یا مستامن، اس مسئلے کی وضاحت فرمائیں؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــ یہاں ہندوستان میں حربی، ذمی اور مستامن کی کوئی قید نہیں ہے، یہاں کے غیر مسلموں کے مذہب میں سود جرم یا گناہ نہیں ہے وہ سود کو غیر قانونی نہیں مانتے ہیں وہ دیتے بھی ہیں اور لیتے بھی ہیں. ان کے ساتھ دھوکا، فریب، غدر حرام و گناہ ہے لہذا فریب دے کر ان سے کچھ بھی نہیں لے سکتے لیکن اگر آپ نے انہیں قرض دیا اور وہ اپنی مرضی سے کسی دباؤ میں آئے بغیر آپ کو کچھ دے دیں تو لے سکتے ہیں مثلا آپ نے کسی غیر مسلم کو ایک ہزار روپے دیئے اب وہ اس پر پانچ، دس روپے اضافہ کے ساتھ دے رہا ہے یا 100 اضافہ کرکے دے رہا ہے تو یہ آپ کے لئے جائز و درست ہے ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ کتبـــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
12
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9