صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2343 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

گالی کیاہے ؟ منافق کہناگالی ہے ?

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 5,375

سوال (Question):

گالی کیاہے ؟ منافق کہناگالی ہے ?

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

گالی کیاہے ؟ منافق کہناگالی ہے ?

عَنْ أَیُّوبَ قَالَ:حَدَّثَنِی مَوْلًی لِأَبِی قِلَابَۃَ قَالَ:دَخَلَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ عَلَی أَبِی قِلَابَۃَ وَہُوَ مَرِیضٌ فَقَالَ: نَشَدْتُکَ اللَّہَ یَا أَبَا قِلَابَۃَ لَا تُشَمِّتْ بِنَا الْمُنَافِقِینَ ۔ملخصاً۔ ترجمہ :حضرت سیدناایوب رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیںکہ مجھے حضرت سیدناابوقلابہ رضی اللہ عنہ کے غلام نے بیان کیاکہ حضرت سیدناعمربن عبدالعزیزرضی اللہ عنہ حضرت سیدناابوقلابہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اوروہ بیمارتھے توحضرت سیدناعمربن عبدالعزیزرضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابوقلابہ !میں آپ کوقسم دیتاہوں کہ آپ مجھے منافق ہونے کی گالی نہ دیں ۔۔۔۔۔ (المصنف:أبو بکر عبد الرزاق بن ہمام بن نافع الحمیری الیمانی الصنعانی (۹:۴۶۲)

لعنت کرنابھی گالی دیناہے

عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ صَفْوَانَ، قَالَ:قَالَ رَجُلٌ یَوْمَ صِفِّینَ:اللَّہُمَّ الْعَنْ أَہْلَ الشَّامِ، قَالَ:فَقَالَ عَلِیٌّ:لَا تَسُبَّ أَہْلَ الشَّامِ جَمًّا غَفِیرًا،فَإنَّ بِہَا الْأَبْدَالَ،فَإنَّ بِہَا الْأَبْدَالَ، فَإنَّ بِہَا الْأَبْدَالَ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن صفوان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ صفین کے دن کہاکہ اے اللہ !شام والوں پرلعنت فرما، حضرت سیدنامولاعلی رضی اللہ عنہ نے فرمایاکہ شام کے سب لوگوں کو گالی مت دے ، اس لئے کہ ان میں ابدال ہوتے ہیں اوریہ بات تین بارفرمائی۔ (فضائل الصحابۃ:أبو عبد اللہ أحمد بن محمد بن حنبل بن ہلال بن أسد الشیبانی (۲:۹۰۵)

ضروری تنبیہ

یہاں ایک بات کی وضاحت انتہائی ضروری ہے وہ یہ جو ہم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم یاائمہ یا تابعین رضی اللہ عنہم کے آپس کے مناقشات اورباہمی ،مسائل میں اختلاف پرایک دوسرے کے بارے میں سخت کلمات نقل کررہے ہیں اس سے وہ ان الفاظ کے حقیقی معنی کاارادہ نہیں کرتے ، صرف ان کے کسی کام یاکسی بات پرغم وغصہ کااظہارکرنامقصودہوتا،اس کے ثبوت میںبہت سی احادیث شریفہ موجود ہیں ۔ پہلی دلیل عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا خَرَجْنَا مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَلَا نُرَی إِلَّا أَنَّہُ الْحَجُّ فَلَمَّا قَدِمْنَا تَطَوَّفْنَا بِالْبَیْتِ فَأَمَرَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ یَکُنْ سَاقَ الْہَدْیَ أَنْ یَحِلَّ فَحَلَّ مَنْ لَمْ یَکُنْ سَاقَ الْہَدْیَ وَنِسَاؤُہُ لَمْ یَسُقْنَ فَأَحْلَلْنَ قَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَحِضْتُ فَلَمْ أَطُفْ بِالْبَیْتِ فَلَمَّا کَانَتْ لَیْلَۃُ الْحَصْبَۃِ قَالَتْ یَا رَسُولَ اللَّہِ یَرْجِعُ النَّاسُ بِعُمْرَۃٍ وَحَجَّۃٍ وَأَرْجِعُ أَنَا بِحَجَّۃٍ قَالَ وَمَا طُفْتِ لَیَالِیَ قَدِمْنَا مَکَّۃَ قُلْتُ لَا قَالَ فَاذْہَبِی مَعَ أَخِیکِ إِلَی التَّنْعِیمِ فَأَہِلِّی بِعُمْرَۃٍ ثُمَّ مَوْعِدُکِ کَذَا وَکَذَا قَالَتْ صَفِیَّۃُ مَا أُرَانِی إِلَّا حَابِسَتَہُمْ قَالَ عَقْرَی حَلْقَی أَوَ مَا طُفْتِ یَوْمَ النَّحْرِ قَالَتْ قُلْتُ بَلَی قَالَ لَا بَأْسَ انْفِرِی قَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَلَقِیَنِی النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ مُصْعِدٌ مِنْ مَکَّۃَ وَأَنَا مُنْہَبِطَۃٌ عَلَیْہَا أَوْ أَنَا مُصْعِدَۃٌ وَہُوَ مُنْہَبِطٌ مِنْہَا۔ ترجمہ :حضرت سیدتنا عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ ہم حضورتاجدارختم نبوتﷺکے ہمراہ(مدینہ سے) روانہ ہوئے تو صرف حج کرنے کاارادہ تھا لیکن جب ہم نے مکہ مکرمہ پہنچ کرکعبہ کاطواف کرلیا تو حضورتاجدارختم نبوتﷺنے حکم دیا کہ جو شخص قربانی کاجانور ساتھ لے کر نہ آیا ہو و ہ احرام کھول دے، چنانچہ جو لوگ قربانی ساتھ نہ لائے تھے وہ احرام سے باہر ہوگئے۔ چونکہ آپ کی ازواج مطہرات بھی قربانی کاجانور ہمراہ نہ لائی تھیں، ۔ اس لیے انھوں نے بھی احرام کھول دیے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں حالت حیض میں تھی، اس لیے میں نے طواف نہ کیا۔ جب وادی محصب میں ٹھہرنے کی رات تھی تو میں نے عرض کیا: یارسول اللہ ﷺ! لوگ تو عمرہ اور حج کرکے لوٹیں گے اور میں صرف حج کرکے واپس جارہی ہوں۔ آپﷺ نے فرمایا:جن راتوں میں ہم مکہ مکرمہ آئے تھے کیا تم نے طواف نہیں کیا تھا؟میں نے عرض کیا: نہیں۔ آپ ﷺنے فرمایا:تم اپنے بھائی(عبدالرحمان بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ )کے ساتھ مقام تنعیم جاؤ اور عمرے کا احرام باندھ کر اس کی تکمیل کرو، اس کے بعد فلاں جگہ پر آجانا۔ ام المومنین صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا:میرا خیال ہے کہ میری وجہ سے لوگوں کو رکنا پڑے گا۔ آپ ﷺنے فرمایا:عقریٰ حلقیٰ!(توزخمی ہوجائے اورتیراسرمونڈ دیاجائے )کیا تو نے قربانی کے دن طواف نہیں کیا تھا؟حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا:کیوں نہیں، یعنی میں نے طواف زیارت کیا تھا، آپﷺ نے فرمایا:پھر کوئی حرج نہیں روانہ ہوجاؤ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ میری حضورتاجدارختم نبوتﷺسے ملاقات ہوئی جبکہ آپ ﷺمکہ جارہے تھے اور میں واپس آرہی تھی یا میں مکہ کو جاری تھی اور آپﷺ واپس آرہے تھے۔ (صحیح البخاری:محمد بن إسماعیل أبو عبداللہ البخاری الجعفی(۲:۱۴۱) اس حدیث شریف میں حضرت سیدتناصفیہ رضی اللہ عنہاکو جلال میں عقری اورحلقی فرمایایعنی توزخمی ہوجائے اورتیراسرمونڈدیاجائے ، اورظاہرہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے ان الفاظ سے ان کااصل معنی مرادنہیں لیاتھا، صرف اس بات پر جلال کااظہارکرنامقصود تھاکہ اب آپ اپنے منصوبے کے مطابق فوراًمدینہ منورہ روانہ نہیں ہوسکیں گے ۔ بلکہ ان کے طواف زیارت کرنے کاانتظارکرناپڑے گااورجب انہوںنے یہ بتایاکہ وہ طواف زیارت کرچکی ہیں ، انہوں نے صرف طواف وداع نہیں کیاتو حضورتاجدارختم نبوتﷺکاجلال کافورہوگیااورفرمایاکہ اب تم ہمارے ساتھ روانہ ہوسکتی ہویعنی اگرتم نے طواف وداع نہیں کیاہے توکوئی حرج نہیں ہے کیونکہ حیض کے عذرکی وجہ سے طواف وداع کو ترک کیاجاسکتاہے ۔ دوسری دلیل عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عِنْدَ بَعْضِ نِسَائِہِ، فَأَرْسَلَتْ إِحْدَی أُمَّہَاتِ المُؤْمِنِینَ بِصَحْفَۃٍ فِیہَا طَعَامٌ، فَضَرَبَتِ الَّتِی النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی بَیْتِہَا یَدَ الخَادِمِ، فَسَقَطَتِ الصَّحْفَۃُ فَانْفَلَقَتْ، فَجَمَعَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِلَقَ الصَّحْفَۃِ، ثُمَّ جَعَلَ یَجْمَعُ فِیہَا الطَّعَامَ الَّذِی کَانَ فِی الصَّحْفَۃِ، وَیَقُولُ: غَارَتْ أُمُّکُمْ ثُمَّ حَبَسَ الخَادِمَ حَتَّی أُتِیَ بِصَحْفَۃٍ مِنْ عِنْدِ الَّتِی ہُوَ فِی بَیْتِہَا، فَدَفَعَ الصَّحْفَۃَ الصَّحِیحَۃَ إِلَی الَّتِی کُسِرَتْ صَحْفَتُہَا، وَأَمْسَکَ المَکْسُورَۃَ فِی بَیْتِ الَّتِی کَسَرَتْ۔ ترجمہ:سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺاپنی زوجہ محترمہ کے ہاں تشریف فرماتھے ، اس وقت دوسری زوجہ محترمہ نے آپﷺ کے لیے ایک پیالے میں کھانے کی کوئی چیز بھیجی۔ جس زوجہ محترمہ کے گھر میں آپﷺ تشریف فرما تھے اس نے خادم کے ہاتھ کو مارا تو پیالہ گر کر ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا۔ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے پیالے کے ٹکڑے جمع کیے، پھر جو کھانا اس پیالے میں تھا اسے بھی جمع کرنے لگے، پھر فرمایا:تمہاری ماں کو غیرت آگئی ہے۔ پھر خادم کو روک رکھا حتیٰ کہ اس بیوی کے گھر سے پیالہ لایا گیا جس کے پاس آپﷺ قیام پذیر تھے۔ اس کے بعد صحیح پیالہ اس بیوی کو بھیجا جس کا پیالہ توڑ دیا گیا تھا اور شکستہ (ٹوٹا ہوا)پیالہ اس بیوی کے گھر رہنے دیا جس نے اسے توڑا تھا۔ (صحیح البخاری:محمد بن إسماعیل أبو عبداللہ البخاری الجعفی(۷:۳۶) اس حدیث شریف میں مذکورہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے ام المومنین رضی اللہ عنہماکے متعلق فرمایاکہ ’’تمھاری ماں کو غیرت آئی ‘‘ان الفاظ سے آپﷺنے حقیقی معنی مراد نہیں لیاتھا۔صرف اس فعل پر آپﷺنے اپنے جلال کااظہارفرمایا۔ تیسری دلیل حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ، أَنَّ أَصْحَابَ الصُّفَّۃِ، کَانُوا أُنَاسًا فُقَرَاء َ وَأَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:مَنْ کَانَ عِنْدَہُ طَعَامُ اثْنَیْنِ فَلْیَذْہَبْ بِثَالِثٍ، وَإِنْ أَرْبَعٌ فَخَامِسٌ أَوْ سَادِسٌ وَأَنَّ أَبَا بَکْرٍ جَاء َ بِثَلاَثَۃٍ، فَانْطَلَقَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِعَشَرَۃٍ، قَالَ:فَہُوَ أَنَا وَأَبِی وَأُمِّی فَلاَ أَدْرِی قَالَ:وَامْرَأَتِی وَخَادِمٌ بَیْنَنَا وَبَیْنَ بَیْتِ أَبِی بَکْرٍ، وَإِنَّ أَبَا بَکْرٍ تَعَشَّی عِنْدَ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ لَبِثَ حَیْثُ صُلِّیَتِ العِشَاء ُ، ثُمَّ رَجَعَ، فَلَبِثَ حَتَّی تَعَشَّی النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَجَاء َ بَعْدَ مَا مَضَی مِنَ اللَّیْلِ مَا شَاء َ اللَّہُ، قَالَتْ لَہُ امْرَأَتُہُ: وَمَا حَبَسَکَ عَنْ أَضْیَافِکَ أَوْ قَالَتْ:ضَیْفِکَ قَالَ:أَوَمَا عَشَّیْتِیہِمْ؟ قَالَتْ:أَبَوْا حَتَّی تَجِیء َ، قَدْ عُرِضُوا فَأَبَوْا، قَالَ: فَذَہَبْتُ أَنَا فَاخْتَبَأْتُ، فَقَالَ یَا غُنْثَرُ فَجَدَّعَ وَسَبَّ، وَقَالَ:کُلُوا لاَ ہَنِیئًا، فَقَالَ:وَاللَّہِ لاَ أَطْعَمُہُ أَبَدًا، وَایْمُ اللَّہِ، مَا کُنَّا نَأْخُذُ مِنْ لُقْمَۃٍ إِلَّا رَبَا مِنْ أَسْفَلِہَا أَکْثَرُ مِنْہَا قَالَ:یَعْنِی حَتَّی شَبِعُوا وَصَارَتْ أَکْثَرَ مِمَّا کَانَتْ قَبْلَ ذَلِکَ، فَنَظَرَ إِلَیْہَا أَبُو بَکْرٍ فَإِذَا ہِیَ کَمَا ہِیَ أَوْ أَکْثَرُ مِنْہَا، فَقَالَ لِامْرَأَتِہِ: یَا أُخْتَ بَنِی فِرَاسٍ مَا ہَذَا؟ قَالَتْ:لاَ وَقُرَّۃِ عَیْنِی، لَہِیَ الآنَ أَکْثَرُ مِنْہَا قَبْلَ ذَلِکَ بِثَلاَثِ مَرَّاتٍ، فَأَکَلَ مِنْہَا أَبُو بَکْرٍ، وَقَالَ: إِنَّمَا کَانَ ذَلِکَ مِنَ الشَّیْطَانِ یَعْنِی یَمِینَہُ ثُمَّ أَکَلَ مِنْہَا لُقْمَۃً، ثُمَّ حَمَلَہَا إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَصْبَحَتْ عِنْدَہُ، وَکَانَ بَیْنَنَا وَبَیْنَ قَوْمٍ عَقْدٌ، فَمَضَی الأَجَلُ، فَفَرَّقَنَا اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا، مَعَ کُلِّ رَجُلٍ مِنْہُمْ أُنَاسٌ، اللَّہُ أَعْلَمُ کَمْ مَعَ کُلِّ رَجُلٍ،فَأَکَلُوا مِنْہَا أَجْمَعُونَ، أَوْ کَمَا قَالَ۔ ترجمہ:حضرت سیدنا عبدالرحمٰن بن ابوبکررضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا:اصحاب صفہ نادار لوگ تھے۔ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے (ان کے متعلق)فرمایا تھا:جس کے پاس دو آدمیوں کا کھانا ہے، وہ تیسرا آدمی ساتھ لے جائے اور اگر چار کا ہو تو پانچواں یا چھٹا (ان میں سے لے جائے)۔چنانچہ حضرت سیدناابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنے ساتھ تین آدمی لے کر گئے اور خود حضورتاجدارختم نبوتﷺنے اپنے ہمراہ دس آدمیوں کو لیا۔ حضرت عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے کہا کہ گھر میں اس وقت میں اور میرے والدین تھے۔ راوی کہتا ہے کہ مجھے یاد نہیں کہ آپ نے یہ کہا یا نہیں کہ گھر میں میری اہلیہ اور خادم بھی تھا جو میرے اور میرے والد گرامی کے گھر میں مشترکہ طور پر کام کرتا تھا۔ الغرض حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضورتاجدارختم نبوتﷺکے ہاں رات کا کھانا کھا لیا اور تھوڑی دیر کے لیے وہاں ٹھہر گئے، پھر عشاء کی نماز پڑھ لی گئی، لوٹ کر پھر تھوڑی دیر ٹھہرے، یہاں تک کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے رات کا کھانا تناول فرمایا۔ اس کے بعد آپ کافی رات گئے اپنے گھر واپس آئے تو ان کی بیوی نے کہا:تم اپنے مہمانوں یا مہمان کو چھوڑ کر کہاں اٹک گئے تھے؟ وہ بولے:کیا تم نے انہیں کھانا نہیں کھلایا؟ انہوں نے بتایا کہ آپ کے آنے تک مہمانوں نے کھانا کھانے سے انکار کر دیا تھا۔ کھانا پیش کیا گیا لیکن وہ نہ مانے۔حضرت سیدنا عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں تو (مارے خوف کے)کہیں چھپ گیا۔ حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ نے کہا:اے غنثر!آپ نے بہت سخت سست کہا اور خوب کوسا، پھر مہمانوں سے گویا ہوئے:کھاؤ تمہیں خوشگوار نہ ہو، اور کہا:اللہ تعالی کی قسم!میں ہرگز نہ کھاؤں گا۔ (عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں)اللہ تعالی کی قسم!ہم جب لقمہ لیتے تو نیچے سے زیادہ بڑھ جاتا تا آنکہ سب مہمان سیر ہو گئے اور جس قدر کھانا پہلے تھا اس سے کہیں زیادہ بچ گیا۔ حضرت سیدناابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جب کھانا دیکھا کہ وہ ویسے ہی ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ ہے تو انہوں نے اپنی اہلیہ سے فرمایا:اے قبیلہ بنو فراس کی بہن !یہ کیا ماجرا ہے؟ انہوں نے عرض کیا:اے میری آنکھوں کی ٹھنڈک!یہ کھانا اس وقت پہلے سے تین گنا ہ ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ پھر اس میں سے حضرت سیدناابوبکررضی اللہ عنہ نے کچھ تناول فرمایا اور کہا کہ ان کی یہ قسم شیطان ہی کی طرف سے تھی۔ پھر ایک لقمہ اس سے (مزید)کھایا اور باقی ماندہ کھانا حضورتاجدارختم نبوتﷺکے پاس اٹھا کر لے گئے اور وہ صبح تک آپ کے پاس پڑا رہا۔ (عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے کہا: ) ہمارے اور ایک گروہ کے درمیان کچھ عہد تھا جس کی مدت گزر چکی تھی تو ہم نے بارہ آدمی علیحدہ کر دیے۔ ان میں سے ہر ایک کے ساتھ کچھ آدمی تھے۔ یہ تو اللہ ہی جانتا ہے کہ ہر شخص کے ساتھ کتنے آدمی تھے۔ ان سب نے اس میں سے کھاناکھایا، یا جیسے عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے کہا۔ (صحیح البخاری:محمد بن إسماعیل أبو عبداللہ البخاری الجعفی(۱:۱۲۴) جس طرح حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے بعض ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کو بعض مواقع پر سخت کلمات فرمائے ، لیکن آپ ﷺکی مراد ان کے معانی نہیں تھے اورجس طرح حضرت سیدناابوبکرالصدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے حضرت سیدناعبدالرحمن رضی اللہ عنہ کو سخت باتیں کیں لیکن آپ رضی اللہ عنہ کی مراد ان کے معانی نہیں تھے۔ چوتھی دلیل قَالَ:أَخْبَرَنِی مَالِکُ بْنُ أَوْسِ بْنِ الحَدَثَانِ النَّصْرِیُّ،أَنَّ عُمَرَ بْنَ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ دَعَاہُ، إِذْ جَاء َہُ حَاجِبُہُ یَرْفَا، فَقَالَ:ہَلْ لَکَ فِی عُثْمَانَ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ،وَالزُّبَیْرِ، وَسَعْدٍ یَسْتَأْذِنُونَ؟ فَقَالَ:نَعَمْ فَأَدْخِلْہُمْ، فَلَبِثَ قَلِیلًا ثُمَّ جَاء َ فَقَالَ:ہَلْ لَکَ فِی عَبَّاسٍ،وَعَلِیٍّ یَسْتَأْذِنَانِ؟ قَالَ:نَعَمْ، فَلَمَّا دَخَلاَ قَالَ عَبَّاسٌ:یَا أَمِیرَ المُؤْمِنِینَ اقْضِ بَیْنِی وَبَیْنَ ہَذَا،وَہُمَا یَخْتَصِمَانِ فِی الَّذِی أَفَاء َ اللَّہُ عَلَی رَسُولِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ بَنِی النَّضِیرِ، فَاسْتَبَّ عَلِیٌّ، وَعَبَّاسٌ، فَقَالَ الرَّہْطُ: یَا أَمِیرَ المُؤْمِنِینَ اقْضِ بَیْنَہُمَا، وَأَرِحْ أَحَدَہُمَا مِنَ الآخَرِ، فَقَالَ عُمَرُ: اتَّئِدُوا أَنْشُدُکُمْ بِاللَّہِ الَّذِی بِإِذْنِہِ تَقُومُ السَّمَاء ُ وَالأَرْضُ، ہَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ:لاَ نُورَثُ مَا تَرَکْنَا صَدَقَۃٌ یُرِیدُ بِذَلِکَ نَفْسَہُ؟ قَالُوا:قَدْ قَالَ ذَلِکَ، فَأَقْبَلَ عُمَرُ عَلَی عَبَّاسٍ، وَعَلِیٍّ فَقَالَ:أَنْشُدُکُمَا بِاللَّہِ، ہَلْ تَعْلَمَانِ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ قَالَ ذَلِکَ؟ قَالاَ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنِّی أُحَدِّثُکُمْ عَنْ ہَذَا الأَمْرِ، إِنَّ اللَّہَ سُبْحَانَہُ کَانَ خَصَّ رَسُولَہُ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی ہَذَا الفَیْء ِ بِشَیْء ٍ لَمْ یُعْطِہِ أَحَدًا غَیْرَہُ، فَقَالَ جَلَّ ذِکْرُہُ: (وَمَا أَفَاء َ اللَّہُ عَلَی رَسُولِہِ مِنْہُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَیْہِ مِنْ خَیْلٍ وَلاَ رِکَابٍ) (الحشر: ۶) إِلَی قَوْلِہِ (قَدِیرٌ)(الحشر: ۶)،فَکَانَتْ ہَذِہِ خَالِصَۃً لِرَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ وَاللَّہِ مَا احْتَازَہَا دُونَکُمْ، وَلاَ اسْتَأْثَرَہَا عَلَیْکُمْ، لَقَدْ أَعْطَاکُمُوہَا وَقَسَمَہَا فِیکُمْ حَتَّی بَقِیَ ہَذَا المَالُ مِنْہَا، فَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُنْفِقُ عَلَی أَہْلِہِ نَفَقَۃَ سَنَتِہِمْ مِنْ ہَذَا المَالِ، ثُمَّ یَأْخُذُ مَا بَقِیَ فَیَجْعَلُہُ مَجْعَلَ مَالِ اللَّہِ، فَعَمِلَ ذَلِکَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَیَاتَہُ، ثُمَّ تُوُفِّیَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ: فَأَنَا وَلِیُّ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَبَضَہُ أَبُو بَکْرٍ فَعَمِلَ فِیہِ بِمَا عَمِلَ بِہِ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَأَنْتُمْ حِینَئِذٍ، فَأَقْبَلَ عَلَی عَلِیٍّ، وَعَبَّاسٍ وَقَالَ:تَذْکُرَانِ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ فِیہِ کَمَا تَقُولاَنِ، وَاللَّہُ یَعْلَمُ: إِنَّہُ فِیہِ لَصَادِقٌ بَارٌّ رَاشِدٌ تَابِعٌ لِلْحَقِّ؟ ثُمَّ تَوَفَّی اللَّہُ أَبَا بَکْرٍ، فَقُلْتُ:أَنَا وَلِیُّ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَأَبِی بَکْرٍ، فَقَبَضْتُہُ سَنَتَیْنِ مِنْ إِمَارَتِی أَعْمَلُ فِیہِ بِمَا عَمِلَ فِیہِ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو بَکْرٍ، وَاللَّہُ یَعْلَمُ:أَنِّی فِیہِ صَادِقٌ بَارٌّ رَاشِدٌ تَابِعٌ لِلْحَقِّ؟ ثُمَّ جِئْتُمَانِی کِلاَکُمَا، وَکَلِمَتُکُمَا وَاحِدَۃٌ وَأَمْرُکُمَا جَمِیعٌ، فَجِئْتَنِی یَعْنِی عَبَّاسًا فَقُلْتُ لَکُمَا:إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لاَ نُورَثُ مَا تَرَکْنَا صَدَقَۃٌ فَلَمَّا بَدَا لِی أَنْ أَدْفَعَہُ إِلَیْکُمَا قُلْتُ: إِنْ شِئْتُمَا دَفَعْتُہُ إِلَیْکُمَا، عَلَی أَنَّ عَلَیْکُمَا عَہْدَ اللَّہِ وَمِیثَاقَہُ: لَتَعْمَلاَنِ فِیہِ بِمَا عَمِلَ فِیہِ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَکْرٍ وَمَا عَمِلْتُ فِیہِ مُنْذُ وَلِیتُ، وَإِلَّا فَلاَ تُکَلِّمَانِی، فَقُلْتُمَا ادْفَعْہُ إِلَیْنَا بِذَلِکَ، فَدَفَعْتُہُ إِلَیْکُمَا، أَفَتَلْتَمِسَانِ مِنِّی قَضَاء ً غَیْرَ ذَلِکَ، فَوَاللَّہِ الَّذِی بِإِذْنِہِ تَقُومُ السَّمَاء ُ وَالأَرْضُ، لاَ أَقْضِی فِیہِ بِقَضَاء ٍ غَیْرِ ذَلِکَ حَتَّی تَقُومَ السَّاعَۃُ، فَإِنْ عَجَزْتُمَا عَنْہُ فَادْفَعَا إِلَیَّ فَأَنَا أَکْفِیکُمَاہُ۔ ترجمہ :حضرت سیدنامالک بن اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا:میں دن چڑھے اپنے اہل خانہ کے ساتھ بیٹھا ہواتھا کہ اچانک حضرت سیدناعمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف سے ایک قاصد میرے پاس آیا اور کہا:امیر المومنین رضی اللہ عنہ آپ کو بلارہے ہیں۔ میں اس کے ساتھ ہی روانہ ہوگیا حتیٰ کہ حضرت سیدناعمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس حاضر ہوا جبکہ آپ رضی اللہ عنہ چارپائی کے بان پر بیٹھے ہوئے تھے۔ اس پر کوئی گدا وغیرہ بھی نہیں تھا۔ وہ چمڑے کے تکیے پر ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ میں نے سلام عرض کیا اور بیٹھ گیا۔ انھوں نے فرمایا:اے مالک!تمہاری قوم کے کچھ لوگ ہمارے پاس آئے تھے۔ میں نے کچھ مال ان میں تقسیم کرنے کاحکم دیا ہے، آپ اس پر قبضہ کرکے ان میں تقسیم کردیں۔ میں نے عرض کیا: امیر المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ !اگرآپ میرے علاوہ کسی اور کو حکم دیتے توبہتر تھا۔ انہوں نے فرمایا:اللہ کے بندے!تم اسے اپنے قبضے میں کرکے ان میں تقسیم کردو۔ میں ان کے پاس ہی بیٹھاتھا کہ ان کا دربان یرفا آیا وہ عرض کرنے لگا کہ آپ حضرت سیدناعثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ،حضرت سیدنا عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت سیدنازبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت سیدناسعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اندر آنے کی اجازت دیتے ہیں؟وہ آ پ کے پاس آنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے فرمایا:ہاں۔ انھیں اجازت دے دی تو وہ اندر آئے۔ انھوں نے سلام کیا اور بیٹھ گئے۔ تھوڑی دیر ٹھہرنے کے بعد یرفا پھر آیا، اس نے عرض کیا:آپ حضرت سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھی آنے کی اجازت دیتے ہیں؟انھوں نے فرمایا:ہاں۔ ان کو اجازت دی تو وہ اندر آئے، سلام عرض کیا اور بیٹھ گئے۔ پھر حضرت سیدنا عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا:امیر المومنین!میرے اور اس کے درمیان فیصلہ کردیں۔ ان دونوں حضرات کا اس کے متعلق تنازعہ تھا جو اللہ تعالیٰ نے بنو نضیر کے اموال میں سے اپنے حبیب کریم ﷺکو بطور فے دیا تھا۔حضرت سیدنامولاعلی رضی اللہ عنہ اورحضرت سیدناعباس رضی اللہ عنہ دونوں نے ایک دوسرے کو برابھلاکہا۔ پہلے سے موجود صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے بھی کہاکہ ان کافیصلہ کردیاجائے ،حضرت سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے بھی تائید کی کہ اے امیر المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ!ان میں تصفیہ کرادیں اور ایک کو دوسرے سے آرام پہنچائیں۔ حضرت سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:اچھا تو پھرذرا ٹھہریے!میں تمھیں اس اللہ تعالی کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس کے حکم سے آسمان اور زمین قائم ہیں، کیا تم جانتے ہوکہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا:ہم انبیاء کرام علیہم السلام کسی کے لیے وراثت نہیں چھوڑتے۔ ہمارا ترکہ (لوگوں کے لیے)صدقہ ہوتا ہے۔ آپ کی مراد حضورتاجدارختم نبوتﷺکی ذات کریمہ تھی؟انھوں نے بیک زبان ہوکر کہا کہ واقعی آپ ﷺنے ایسا ہی فرمایا۔ پھر حضرت سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت سیدنا عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا:میں تمھیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں، کیاتم جانتے ہوکہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے ایسا فرمایا تھا؟(انھوں نے عرض کیا:بلاشبہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے یہی ارشاد فرمایا تھا)حضرت سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:میں تمھیں اس کے متعلق(کچھ وضاحت سے)بیان کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے اس فے کے مال میں حضورتاجدارختم نبوتﷺکو خاص کیا، اس میں سے آپ ﷺکے علاوہ کسی کو کچھ نہیں دیا، پھر آپ نے(آیت فے)تلاوت فرمائی:اللہ تعالیٰ نے ان میں سے اپنے رسول کریم ﷺ پر عطیہ فرمایا، تم لوگوں نے اس پر اپنے اونٹ گھوڑے نہیں دوڑائے لیکن اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں کو جس شخص پر چاہے قبضہ دے دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر خوب قدرت رکھنے والا ہے۔ گویا فے کا مال، خالص حضورتاجدارختم نبوتﷺنے تم سے روک کراپنے لیے جمع نہیں کیا کہ خود کو تم پر ترجیح دی ہوبلکہ آپ ﷺنے وہ فے کامال بھی تمھیں دے دیا ہے اور تم پر اسے صرف کردیا ہے۔ اب ان اموال میں سے صرف یہ مال باقی رہ گیا ہے۔ حضورتاجدارختم نبوتﷺکا معمول یہ تھا کہ وہ اس مال سے اپنے اہل وعیال پر خرچ کرتے تھے کہ اس سے سال بھر کا خرچہ نکال کر باقی مال وہاں خرچ کردیتے جہاں اللہ تعالی کا مال خرچ ہوتا ہے۔ حضورتاجدارختم نبوتﷺزندگی بھر ایسا ہی کرتے رہے۔ میں تمھیں اللہ تعالی کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا یہ صحیح ہے؟سب نے کہا: ہاں(صحیح ہے)پھر آپ نے(خصوصیت کے ساتھ)حضرت سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت سیدنا عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اللہ تعالی کی قسم دے کر پوچھا:کیا تم بھی اسے صحیح خیال کرتے ہو؟(انھوں نے کہا کہ ہاں ایسا ہی ہے۔ )اس کے بعد حضرت سیدناعمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا:پھر اللہ تعالیٰ نے حضورتاجدارختم نبوتﷺکواپنے پاس بلالیا تو حضرت سیدنا ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: میں حضورتاجدارختم نبوتﷺکا جانشین ہوں اور انھوں نے یہ اموال اپنے قبضے میں لیے اور ان میں وہی عمل کیا جو حضورتاجدارختم نبوتﷺزندگی بھر کرتے رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ حضرت سیدناابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس معاملے میں راست باز، نیکوکار، ہدایت یافتہ اور حق کے تابع تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت سیدناابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھی اپنے پاس بلالیا تو میں حضرت سیدناابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کاجانشین ہوا۔ میں نے اپنی خلافت کے دو سال تک اس جاگیر پر قبضہ رکھا اور اس کے متعلق وہی طرزعمل اختیار کیے رکھا جو حضورتاجدارختم نبوتﷺاور حضرت سیدنا ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کرتے تھے۔ اور اللہ تعالی جانتا ہے کہ میں نے اس معاملے میں صداقت کا دامن نہیں چھوڑا، نیکوکار، ہدایت یافتہ اور حق کا پیروکاررہا۔ پھر تم دونوں حضرات میرے پاس آئے اور گفتگو کرنے لگے۔ تمہارا مطالبہ بھی اور معاملہ بھی ایک تھا۔ اے عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ !تم اس لیے آئے کہ اپنے بھتیجے کا حصہ مانگتے تھے اور حضرت سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس لیے آئے کہ وہ اپنی زوجہ محترمہ رضی اللہ عنہاکاحصہ باپ کی جائیداد سے مانگتے تھے۔ میں نے تم دونوں سے کہا تھا کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکا ارشاد گرامی ہے:انبیاء کرام علیہم السلام وراثت نہیں چھوڑتے۔ ان کا ترکہ سب صدقہ ہوتا ہے۔ پھر سوچ بچار کے بعد مجھے مناسب معلوم ہواکہ وہ مال(تولیت کے طور پر)تمھیں دے دوں، تو میں نے تم سے کہا:اگر تم چاہتے ہو تو میں اس شرط پر اسے تمہارے حوالے کرتا ہوں کہ تم مجھے اللہ تعالی کا عہدوپیمان دو کہ تم اس میں وہی کچھ کرو گے جو حضورتاجدارختم نبوتﷺ،حضرت سیدناابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور جو کچھ میں نے ابتدائے خلافت سے اب تک کیا ہے۔ تم دونوں نے کہا تھا کہ اس کو ہمارے حوالے کردو، تو میں نے اس شرط پر اسے تمہارے حوالے کردیا۔ اب میں تمھیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ میں نے اس شرط پر وہ جاگیر تمہارے حوالے کی تھی؟وہاں موجود تمام لوگوں نے کہا:ہاں۔ پھر حضرت سیدناعمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت سیدناعلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ، اور حضرت سیدنا عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا کہ تمھیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں:کیا میں نے وہ مال اس شرط پر تمہارے حوالے کیاتھا؟انھوں نے کہا:ہاں۔ پھر حضرت سیدناعمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اب تم مجھ سے اس کے خلاف کوئی فیصلہ طلب کرتے ہو؟اللہ کی قسم!جس کے حکم سے زمین وآسمان قائم ہیں، میں ان اموال میں اس کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں دے سکتا۔ اگر تم اس کے انتظامات سے عاجز آگئے ہوتو اسے میرے حوالے کردو۔ میں تمہاری طرف سے ان اموال کے انتظام کرنے کے لیے کافی ہوں۔ (صحیح البخاری:محمد بن إسماعیل أبو عبداللہ البخاری الجعفی(۵:۸۹) اس حدیث شریف میں جو مذکورہواکہ حضرت سیدناعباس رضی اللہ عنہ اورحضرت سیدنامولاعلی رضی اللہ عنہ نے ایک دوسرے کو سخت سست کہایہاں بھی آپ رضی اللہ عنہماکی مراد ان کے معانی نہیں تھے ،یہ ایسے ہی ہے جیسے مائیں اپنی اولاد کو کوسنے دیتی ہیں کہ اللہ کرے تم مرجائو!تم مٹ جائو!تم غارت ہوجائو!یاجیسے استاد اپنے شاگردوں کوڈانٹتے ہوئے کہتے رہتے ہیںلیکن ان کی مراد ان الفاظ کے حقیقی معانی نہیں ہوتے ۔ اوریہ بھی ذہن میں رہے کہ ہم نے لفظ ’’گالی لکھاہے وہ عرف کی وجہ سے ہے لکھاہے کہ وگرنہ حدیث شریف میں جوالفاظ استعمال ہوئے وہ مبنی برحقیقت ہیںاوروہ حقیقت کابیان ہیں۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh