صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1316 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

گروی پر مکان کا لین دین کرنا کیسا ہے؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 7,540

سوال (Question):

گروی پر مکان کا لین دین کرنا کیسا ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

گروی پر مکان کا لین دین کرنا کیسا ہے؟

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کیافرماتےہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ گروی پر مکان کا لین دین کرنا کیسا ہے؟ گروی کا مطلب یہ ہے کہ میں دو لاکھ روپئے کسی کو دوں اس شرط پر کہ جب تک وہ دو لاکھ روپئے مجھے نہیں دے دیتا تب تک میں ان کا روم اپنے استعمال میں لا سکتا ہوں اور اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہوں ۔ سائل محمد عامر رضا رضوی احمد آباد گجرات وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ الجواب بعون الملک الوھاب گروی پر مکان اس طور پر لینا کہ مکان کے مالک کو دو تین لاکھ روپیہ قرض کے طور پر دے دیں۔ اور مالک کے مکان سے نافع اٹھائے۔ جب تک قرض دار اس کا رقم نہ لوٹا دے تو یہ ناجائز و حرام ہے کہ یہ سود کے حکم میں ہے۔ اعلی حضرت اسی طرح کے سوال کے جواب میں فرماتے ہیں: “مرتہن کو رہن سے کسی طرح کا انتفاع جائزنہیں، نہ رہ کر نہ کرایہ پر، سب حرام اور سود ہے۔ حدیث میں ہے نبی صلیﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: “کل قرض جرمنفعۃ فھو ربو،رواہ الحارث فی مسندہ؎ عن امیرالمومنین علی کرمﷲ تعالٰی وجھه۔” جوقرض نفع کو کھینچ لائے وہ سودہے۔ اس کو حارث نے اپنی مسندمیں امیرالمومنین حضرت علی کرمﷲ تعالٰی وجہہ الکریم سے روایت کیا۔ یہاں جو انتفاع ہوتا ہے معروف ومعہود ہے اور معروف مشروط اورمشروط بالاجماع حرام اور وہ یقینا روپے کے دباؤ سے ہوتا ہے تو یہاں اذن راہن کی صورت متحقق نہیں۔ طحطاوی علی الدرالمختار پھر ردالمحتار میں ہے: ” الغالب من احوال الناس انهم انما یریدون عند الدفع الانتفاع ولولاہ لما اعطاہ الدراھم وھٰذا بمنزلۃ الشرط لان المعروف کالمشروط وھو مما یعین المنع انتھی۔ لوگوں کاغالب حال یہ ہے کہ وہ رہن دیتے وقت نفع حاصل کرنے کا ارادہ کرتے ہیں ورنہ وہ قرض کے لئے درھم ہی نہ دیں گے۔ اور یہ بمنزلہ شرط کے ہے کیونکہ معروف مشروط کے مثل ہوتاہے اوروہ ممانعت کو متعین کرتاہے۔انتہی. (حوالہ فتاوی رضویہ شریف ج۲۵ ص۲۵۸ رضا فاؤنڈیشن لاہور) اور بہار شریعت ج۳ ص۷۰۲ مکتبہ المدینہ کراچی پر ہے : مرہون چیز سے کسی قسم کا نفع اُٹھانا جائز نہیں ہے۔ یہ اجازت رہن میں شرط ہے یعنی قرض ہی اس طرح دیا ہے کہ وہ اپنی چیز اس کے پاس رہن رکھے اور یہ اس سے نفع اٹھائے جیسا کہ عموماً اس زمانہ میں مکان یا زمین اسی طور پر رکھتے ہیں یہ ناجائز اور سود ہے۔ اصل حکم یہی ہے جس کا ذکر ہوا مگر آج کل عام حالت یہ ہے کہ روپیہ قرض دے کر اپنے پاس چیز اسی مقصد سے رہن رکھتے ہیں کہ نفع اُٹھائیں اور یہ اس درجہ معروف و مشہور ہے کہ مشروط کی حد میں داخل ہے لہٰذا اس سے بچنا ہی چاہیے۔۔ واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب کتبــــہ :محمد اشفاق عطاری صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی نیپال

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh