Fatwa #1935
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
گنہ گار والدین کی اطاعت کا حکم / زانی باپ کی اطاعت کا کیا حکم ہے ؟
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
5,398
سوال (Question):
گنہ گار والدین کی اطاعت کا حکم / زانی باپ کی اطاعت کا کیا حکم ہے ؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
گنہ گار والدین کی اطاعت کا حکم / زانی باپ کی اطاعت کا کیا حکم ہے ؟
کیا فرماتے ہیں علماء کرام مسئلہ ذیل میں کہ زید کا باپ کسی عورت سے زنا کرتا ہے اور کچھ لوگوں کو پتہ بھی ہے زید نے بکر سے کہا کہ آپ کسی عالم صاحب سے اس تعلق سے پوچھنا کہ ایسے باپ کی فرما برداری کی جائے یا نہیں اور شریعت کا کیا حکم ہوگا اور مرنے کے بعد کیا سزا ملیگی برائے مہربانی جواب عنایت فرمائیں سائل. محمد وار ث علی ضلع بریلی شریف یو پی الجواب بعون الملک الوھاب والدین گناہ کبیرہ کے مرتکب ہوں جب بھی اولاد پرجائز امور میں انکی اطاعت و فرمانبرداری فرض ہے۔ اور امر ناجائز میں ہرگز اطاعت نہ کرے خواہ والدین صالح ہی کیوں نہ ہوں کہ گناہ میں کسی کی اطاعت نہیں۔ قال صلی الله تعالٰی علیہ وسلم لاطاعۃ لاحد فی معصیۃ الله انما الطاعۃ فی المعروف۔ نبی اکرم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:” الله تعالٰی کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں فرمانبرداری صرف نیك امور میں ہے”((صحیح البخاری کتاب اخبار الآحاد مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ٢/١٠٧٨)) ممکن ہو تو بہ نرمی و ادب انہیں گناہوں سے منع کرے زنا پر جو وعیدیں وارد ہیں وہ خود سنائے یا کسی سے سوائے اور عذاب سے ڈرائے اگر مان جائیں ” سبحان اللہ” ورنہ انکے گناہ کا وبال ان پر ہوگا، اسے چاہئے کہ تنہائی میں انکے راہ راست پر رہنے کی دعا کرتا رہے۔ ملخصاً فتاویٰ رضویہ جدید ج 21…158 مکتبہ روح المدینہ اکیڈمی موبائل ایپ)) ایں سبب ہرگز انکا گستاخ و نافرمان انہیں ستانے والا نہ بنے کہ احادیث مبارکہ میں والدین کی نافرمانی پر سخت ترین وعیدیں ہیں۔ رسولﷲ صلیﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: ملعون من عق والدیہ ملعون من عق والدیہ ملعون من عق والدیہ۔ ملعون ہے جو اپنے ماں باپ کو ستائے،ملعون ہے جو اپنے ماں باپ کو ستائے۔ملعون ہے جواپنے ماں باپ کو ستائے۔ (المعجم الاوسط حدیث ۸۴۹۲ مکتبہ المعارف ریاض ۹ /۲۲۶)) اور فرماتے ہیں صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم: ثلثۃ لایقبل ﷲ عزوجل منھم صرفا و لاعد لا عاق و منان ومکذب بقدر۔ تین شخص ہیں کہ ﷲ تعالٰی نہ ان کے نفل قبول کرے نہ فرض:ماں باپ کو ایذا دینے والا اور صدقہ دے کر فقیر پر احسان رکھنے والا اور تقدیر کا جھٹلانے والا۔((مجمع الزوائد باب ماجاء فیمن یکذب بالقدر الخ دارالکتاب بیروت ۷ /۲۰۶)) اور فرماتے ہیں رسولﷲ صلیﷲ تعالٰی علیہ وسلم : کل الذنوب یوخر ﷲ تعالٰی منھا ماشاء الٰی یوم القٰیمۃ الاعقوق الوالدین فانﷲ یعجلہ لصاحبہ فی الحیات قبل الممات۔ سب گناہوں کی سزا ﷲ تعالٰی چاہے تو قیامت کیلئے اٹھارکھتا ہے مگر ماں باپ کو ستانا کہ اس کی سزا مرنے سے پہلے زندگی میں پہنچاتا ہے۔ ((المستدرك للحاکم کتاب البروالصلۃ دار الفکر بیروت ۴ /۱۵۶)) تو چاہیے کہ انہیں راضی رکھے انکی رضا میں ہی خدا و رسول کی رضا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: رضاﷲ فی رضا الوالد وسخط ﷲ فی سخط الوالد۔ ((فتاویٰ رضویہ جدید ج 18…315 /316 مکتبہ روح المدینہ اکیڈمی موبائل ایپ)) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب والیہ المرجع والمآب کتبہ :خاک پائے علماء ابو فرحان مشتاق احمد رضوی جامعہ رضویہ فیض القرآن سلیم پور نزد کلیرشریف اتراکہنڈ
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
12
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9