صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #784 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

گولی سے مارے ہوے جانور کو کھانا کیسا ہے ؟ از مفتی نظام الدین رضوی

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 4,205

سوال (Question):

گولی سے مارے ہوے جانور کو کھانا کیسا ہے ؟ از مفتی نظام الدین رضوی

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

گولی سے مارے ہوے جانور کو کھانا کیسا ہے ؟

سوال : افریقہ کے علاقہ میں جب بڑے جانور ذبح کرتے ہیں تو وہاں لوکل لوگ (بلیک پاپولیشن) پہلے اس کو شوٹ کرتے ہیں، گولی مارتے ہیں جس سے وہ گر جاتا ہے اور کمزور ہو جاتا ہے اور بے ہوش بھی ہو جاتا ہے ایسے جانور کا گوشت کھانا کیسا ہے؟ الجوابـــــــــــــــــــــــ ایسا کرنا نا جائز اور باعث گناہ ہے، کیونکہ یہ بلاوجہ جانور کو زیادہ تکلیف پہنچانا ہے ۔فقہاء کرام فرماتے ہیں کہ جانوروں پر ظلم کرنا مسلم ریاست کے غیر مسلم پر ظلم کرنے سے زیادہ سخت ہے۔ اور ایسے غیر مسلم پر ظلم کرنا مسلم پر ظلم کرنے سے بڑھ کر ہے ۔ تو یہ بہت بھیانک ظلم ہے اگر کوئی مسلمان ایسا کرتا ہے تو وہ اس سے مجمع مسلمین میں توبہ کرے اور آئندہ ہرگز ہرگز ایسا نہ کرے ۔ رہ گئی یہ بات کہ جانور حلال ہے یا نہیں تو عرض ہے کہ اگر شوٹ کرنے کے بعد وہ جانور زندہ رہا اور صرف بے ہوش ہوا ہے مرا نہیں اور ایسے وقت میں کسی مسلمان نے ” بسم اللہ اللہ اکبر” کہہ کر ذبح کر دیا تو وہ ذبیحہ حلال ہے ۔ اور اس کا گوشت پاک و حلال ہے اور اگر ایسا نہ ہوا تو حرام ہے ۔ واللہ تعالی اعلم کتبــــــــــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh