Fatwa #1903
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
گونگے کی طلاق کا حکم از محمد ارشاد رضا علیمی
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
10,362
سوال (Question):
گونگے کی طلاق کا حکم از محمد ارشاد رضا علیمی
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
گونگے کی طلاق کا حکم از محمد ارشاد رضا علیمی
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں ایک شخص بنام پرویز احمد ولد محمد حفیظ ملیار ساکنہ میراہ راجوری کا رہنے والا ہے اور یہ شخص زبان سے گونگا ہے اور اشارہ سے بات چیت کرتا ہے اس نے اپنی بیوی نصرت نعیم دختر مولوی طالب حسین ساکنہ عظمت آباد جو کہ عرصہ پندرہ سال سے نصرت نعیم کی شادی ان کی خالہ کے گھر راجوری ہوئی تھی۔ اس کے تین چار بچے بھی ہیں۔ اس کا شوہر زبان سے گونگا ہے لیکن کئی بار اشارے سے طلاق دی لکھا کر ۔ اس طرح بھی اشارہ کیا کہ میں نے تجھے طلاق طلاق طلاق دی ہے۔ تو اسی وقت اپنے باپ کے گھر چلی جا۔ اس صورت میں اس کو طلاق واقع ہوجاتی ہے کہ نہیں۔ آپ حضرات قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔ المستفتی۔۔ مولوی طالب حسین ساکن عظمت آباد تھنہ منڈی الجواب بعون الملك الوهاب:- گونگا لکھنا نہیں جانتا اس نے اشارے سے اپنی بیوی کو طلاق دی اگر اس کا اشارہ معلوم و معہود ہو اور اشارہ کے ساتھ آواز بھی نکالے تو پھر ایسے اشارے سے طلاق واقع ہوجائے گی لیکن اگر لکھنا جانتا ہے تو پھر اشارے سے واقع نہ ہو گی بلکہ لکھنے سے ہوگی سوال میں مذکور ہے کہ پرویز احمد جو کہ گونگا ہے اس نے اپنی بیوی نصرت نعیم کو کئی بار اشارے سے لکھوا کر طلاق دی ہے اس سے ظاہر ہے کہ وہ لکھنا نہیں جانتا لہذا صورت مسؤلہ میں اگر پرویز احمد کا اشارہ معلوم ومعہود ہے اور اس نے اشارہ کے وقت آواز بھی نکالی ہے تو پھر اس کے کئی بار طلاق کا اشارہ کرنے سے اس کی بیوی پر طلاق مغلظہ واقع ہوگئی مذکورہ عورت اب اس کے لیے حلال نہ ہوگی جبتک کہ وہ عدت گزار کر دوسرے شخص سے نکاح کرکے ہمبستر نہ ہوجائے اور پھر وہ طلاق دیدے یا انتقال کرجائے تو پھر عدت گزار کر اس سے نکاح کرسکتی ہے- اگر گونگے کا اشارہ معلوم ومعہود نہ ہو اور نہ ہی اشارہ کے وقت آواز نکالے تو پھر ایسی صورت میں طلاق واقع نہ ہوگی صورت مستفسرہ میں بھی اگر پرویز احمد کا یہی حال ہے تو پھر اشارہ سے اس کی بیوی پر طلاق واقع نہ ہوگی- در مختار میں ہے”(أو أخرس) ولو طارئاً إن دام للموت، به يفتى، وعليه فتصرفاته موقوفة. واستحسن الكمال اشتراط كتابته (بإشارته) المعهودة؛ فإنها تكون كعبارة الناطق استحساناً” رد المحتار میں ہے:(قوله: واستحسن الكمال إلخ) حيث قال: وقال بعض الشافعية: إن كان يحسن الكتابة لايقع طلاقه بالإشارة؛ لاندفاع الضرورة بما هو أدل على المراد من الإشارة وهو قول حسن، وبه قال بعض مشايخنا اهـ. قلت: بل هذا القول تصريح بما المفهوم من ظاهر الرواية. ففي كافي الحاكم الشهيد ما نصه: فإن كان الأخرس لايكتب وكان له إشارة تعرف في طلاقه ونكاحه وشرائه وبيعه فهو جائز، وإن كان لم يعرف ذلك منه أو شك فيه فهو باطل. اهـ. فقد رتب جواز الإشارة على عجزه عن الكتابة، فيفيد أنه إن كان يحسن الكتابة لاتجوز إشارته، ثم الكلام كما في النهر إنما هو في قصر صحة تصرفاته على الكتابة، وإلا فغيره يقع طلاقه بكتابة كما يأتي آخر الباب، فما بالك به (قوله: بإشارته المعهودة) أي المقرونة بتصويت منه؛ لأن العادة منه ذلك، فكانت الإشارة بياناً لما أجمله الأخرس، بحر عن الفتح. وطلاقه المفهوم بالإشارة إذا كان دون الثلاثة فهو رجعي، كذا في المضمرات ط عن الهندية”( در مختار مع رد المحتار ج ۴ ص ۴۴۸/ دار الکتب العلمیه، بیروت،لبنان) فتح القدیر میں ہے:(قوله وطلاق الأخرس واقع بالاشارة لانها صارت مفهومة فكانت كالعبارة)فى الدلالة استحسانا فيصح بها نكاحه وطلاقه وعتاقه وبيعه وشراؤه سواء قدر على الكتابة أو لا، وهذا استحسان بالضرورة،فانه لو لم يعتبر منه ذالك أدى الى موته جوعا وعطشا وعريا،ثم رأينا أن الشرع اعتبرها منه فى العبادات، ألا ترى أنه اذا حرك لسانه بالقراءة والتكبير كان صحيحا معتبرا فكذا فى المعاملات. وقال بعض الشافعية.ان كان يحسن الكتابة لا يقع طلاقه بالاشارة لاندفاع الضرورة بما هو أدل على المراد من الاشارة وهو قول حسن، وبه قال بعض مشايخنا. ولا يخفى أن المراد من الاشارة يقع بها طلاقه الاشارة المقرونة بتصويت منه،لأن العادة منه ذالك فكانت الاشارة بيانا لما اجمله الأخرس ويتصل بما ذكرنا كتابة الطلاق والأخرس فيها كالصحيح، فاذا طلق الأخرس امرأته بالكتابة وهو يكتب جاز عليه من ذالك ما يجوز على الصحيح لأنه عاجز عن الكلام قادر على الكتاب،فهو والصحيح في الكتاب سواء”(ج ۳ ص ۴۷۴/دار الکتب العلمیه،بيروت،لبنان) بہار شریعت میں ہے “گونگے نے اشارے سے طلاق دی ہوگئی جبکہ لکھنا نہ جانتا ہو، اور لکھنا جانتا ہو تو اشارہ سے نہ ہوگی بلکہ لکھنے سے ہوگی”(ج۳ ح۸ ص ۱۱۲/مکتبة المدینه دعوت اسلامی) فتاوی رضویہ میں ہے ” جب طلاقیں تین تک پہنچ جائیں پھر وہ عورت اس کے لیے بے حلالہ حلال نہیں ہوسکتی قال اللہ تعالی فان طلقھا فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره واللہ تعالی اعلم”(ج ۵ ص ۴۳۴) فتاوی امجدیہ میں ہے “حلالہ کی صورت یہ ہے کہ اس طلاق کی عدت گزرنے کے بعد عورت دوسرے سے نکاح صحیح کرے پھر وہ دوسرا شوہر اس سے وطی کرنے کے بعد طلاق دیدے یا مرجائے پھر اس طلاق یا موت کی عدت گزر جانے کے بعد شوہر اول سے نکاح جائز ہوگا-حلالہ کے لیے دوسرے شوہر کا وطی یعنی دخول کرنا ضروری ہے بغیر اس کے شوہر اول کے لیے حلال نہیں ہوسکتی-(ج۲ ص ۲۷۶) واللہ تعالی أعلم بالحق والصواب کتبہ:- محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ خطیب نور الایمان جامع مسجد اسلام پور تھنہ منڈی راجوری جموں وکشمیر ۲۸/ذی الحجہ ۱۴۴۳ھ مطابق ۲۸/جولائی ۲۰۲۲ء الجواب صحيح محمد نظام الدین قادری خادم درس وافتا جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
12
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9