صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1807 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

گھیگھا والے جانور کی قربانی جائز ہے یا نہیں ؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 7,589

سوال (Question):

گھیگھا والے جانور کی قربانی جائز ہے یا نہیں ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

گھیگھا والے جانور کی قربانی جائز ہے یا نہیں ؟

مسلہ:گھیگھا والے جانور کی قربانی جائز ہے یا نہیں ؟ المستفتی: قاضی اطیعواالحق عثمانی،سعد اللہ نگر،بلرام پور(یوپی)

الجوابـــــــــــــ

جس جانور کا گلا پھول آیا اگر وہ اس قدر پھولا ہے کے اس کی وجہ سے اس کی قیمت میں کمی آتی ھے تو یہ عیب ہے اور اس جانور کی قربانی ناجائز ہے اور قیمت کم نہ ہو تو قربانی جائز ہے مگر کراھت کے ساتھ – اور عیب اس کو کہتے ہیں جس کے سبب تاجروں کی نگاہ میں جانور کی قیمت کم ہو جائے – ہدایہ میں ہے”کل ما اوجب نقصان الثمن فی عادۃ التجار فھوعیب ،،(باب خیار العیب ج ٣ ص ٢٣ ۔ ردالمحتار میں ہے “واعلم ان الکل لا یخلو عن عیب والمستحب ان یکون سلیما عن العیوب الظاہر فما ذکر ھھنا جوز مع الکراھۃ کما فی المضمرات ۔ (کتاب الاضحیتہ ج ٦ ص ٣٢٣۔ واللہ تعالیٰ اعلم الجواب صحیح: محمد نظام الدین رضوی برکاتی کتبہ: محمد انوارالحق قادری ١٠ / رجب ال مرجب ١٤٣١ھ

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh