صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1423 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

ہاتھ میں پلاسٹر چڑھا ہوا ہے جس پر وہ مسح کرتا ہے تو کیا وہ امامت کر سکتا ہے؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 9,889

سوال (Question):

ہاتھ میں پلاسٹر چڑھا ہوا ہے جس پر وہ مسح کرتا ہے تو کیا وہ امامت کر سکتا ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

ہاتھ میں پلاسٹر چڑھا ہوا ہے جس پر وہ مسح کرتا ہے تو کیا وہ امامت کر سکتا ہے؟

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ زید کے ہاتھ میں گٹا اور کلائی کے کچھ حصہ پر پلاسٹر چڑھا ہوا ہے زید جب وضو کرتا ہے تو پلاسٹر کی جگہ پر مسح کرتا ہے باقی اجزا کو دھوتا ہے. دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا وہ امامت کر سکتا ہے؟ بینوا و توجروا الجوابــــــــــــــــــ حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں “اعضاء وضو کا دھونے والا پٹی پر مسح کرنے والے کی اقتدا کر سکتا ہے. (بہارشریعت حصہ سوم 121) اور فتاویٰ عالمگیری مع خانیہ جلد اول صفحہ 84 میں ہے” یجوز اقتداء الغاسل بما مسح الخف وبالماسح علی الجبیرۃ ١ھ “ اور چونکہ پلاسٹر پٹی ہی کے حکم ہے اس لیے زیادہ امامت کر سکتا ہے بشرطیکہ کی اور کوئی وجہ مانع امامت نہ ہو. واللہ تعالی اعلم کتبہ : مفتی محمد حنیف القـــــــــــادری الجواب صحیح : مفتی جلال الدین احمد الامجدی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh