صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #890 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

ہاف شرٹ پہن کر نماز ہوتی ہے یا نہیں؟ / نماز کے مسائل

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 6,394

سوال (Question):

ہاف شرٹ پہن کر نماز ہوتی ہے یا نہیں؟ / نماز کے مسائل

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

ہاف شرٹ پہن کر نماز ہوتی ہے یا نہیں؟

الجوابــــــــــــــــــ نماز تو ہوجاتی ہے مگر ہاف ہونے کی وجہ سے مکروہ تنزیہی ہوتی ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہاف شرٹ میں نماز تو ہوجائے گی مگر فل آستین کے شرٹ پہن کر نماز پڑھنا اولی و اچھا ہے ۔ مگر جس کے پاس ہاف شرٹ ہی ہے تو وہ نماز نہ چھوڑے اسی کو پہن کر نماز پڑھے کہ نماز چھوڑ دینا حرام و گناہ کبیرہ ہے جس سے بچنا فرض ہے ۔ انگریزوں کے زمانے میں پینٹ شرٹ کے متعلق ہمارے بزرگ علماء نے یہ فتوی دیا تھا کہ اسے پہن کر نماز پڑھنا گناہ اور مکروہ تحریمی ہے ۔ اور اسے پہن کر جو نماز پڑھی جائے گی اسے دہرانا لازم ہوگا ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس زمانہ میں یہ لباس صرف انگریز قوم کا لباس تھا ۔ اور دوسری کسی قوم کے لوگ یہ لباس نہیں پہنتے تھے ۔ وہ انگریزوں سے سخت نفرت کرتے تھے اس وجہ سے حکم تھا کہ ناجائز ہے ۔ بعد میں دوسری قوموں نے اس لباس کو اپنا لیا اور مسلمانوں نے بھی اس لباس کو اپنا لیا، تو اب یہ لباس کسی قوم کی اور خاص طور سے انگریزوں کی پہچان نہیں رہ گیا ۔ اور شریعت کا حکم زمانے کے بدلنے کی وجہ سے بدلتا رہتا ہے ۔ یہ مسئلہ بھی اسی قسم کا ہے، لہذا اب یہ لباس پہننا مباح ہے اور اس کو پہن کر نماز پڑھی جائے گی تو نماز ہو جائے گی ۔ لیکن اگر کوئی آدمی کرتا پہن کر جو ہمارے عالموں، حافظوں، قاریوں کا لباس ہے نماز پڑھے تو کیا پوچھنا یہ سب سے اچھی بات ہے ۔ واللہ تعالی اعلم کتبــــــــــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh