Fatwa #1609
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
ہبہ سے متعلق ایک اہم مسئلہ از علامہ کمال احمد علیمی نظامی
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
12,202
سوال (Question):
ہبہ سے متعلق ایک اہم مسئلہ از علامہ کمال احمد علیمی نظامی
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
ہبہ سے متعلق ایک اہم مسئلہ
السلام و علیکم ورحمۃ اللہ کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرح متین مسئلہ ذیل میں زید کے چار لڑکے ہیں اور چار لڑکیاں ہیں زید نے اپنی ہی زندگی میں تین لڑکوں کو اپنی جائداد میں سے ہبہ کر دیا تو زید کے مرنے کے بعد اب چوتھا لڑکا مطالبہ کر رہا ہے۔ جس سے زید ناراض تھا۔ تو کیا زید کا اس طرح ہبہ کرنا عند الشرح درست ہے۔ اور جو لڑکا مطالبہ کر رہا ہے۔ وہ مطالبہ کا حقدار ہے یا نہی۔ اور جو لڑکیاں ہیں ہبہ شدہ جائداد میں حقدار ہیں یا نہیں۔ قرآن و حدیث اور اقوال سلف کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی المستفتی سید عبد الرحمن چشتی علیمی الجواب بعون الملک الوھاب زیدنے اپنے چوتھے لڑکے اور لڑکیوں کو چھوڑ کر صحت کی حالت میں تین لڑکوں کواپنی پوری جائیداد کو ہبہ کرکے قبضہ کرادیا تو ہبہ صحیح ہوگیا، اب زید کی وفات کے بعد باقی اس لڑکے اور لڑکیوں کا جائیداد میں کوئی حق نہیں، نہ ہی انہیں اس میں سے کچھ مطالبہ کا حق ہے، مگر زید نے اگر ان کو وراثت سے محروم کرنے کی نیت سے ایسا کیا ہو تو ایسا کرنا گناہ ہے.آدمی کو اپنی حیات میں عطیہ میں اپنی اولاد کو برابر دینا چاہیے، یہاں تک کہ حیات میں عطیہ میں لڑکی کو بھی لڑکے کے برابر دینے کا حکم ہے،ہاں! کسی کو دینی اعتبار سے فضیلت ہو تو اس کو زیادہ دینے میں مضایقہ نہیں۔چناں چہ حدیث شریف میں ہے : عَنْ عَامِرٍ رضی الله عنه قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ رضی الله عنهم وَهُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ يَقُولُ أَعْطَانِي أَبِي عَطِيَةً فَقَالَتْ عَمْرَهُ بِنْتُ رَوَاحَةَ لَا أَرْضَی حَتَّی تُشْهِدَ رَسُولَ اﷲِصلی الله عليه وآله وسلم فَأَتَی رَسُولَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم فَقَالَ إِنِّي أَعْطَيْتُ ابْنِي مِنْ عَمْرَةَ بِنْتِ رَوَاحَةَ عَطِيَةً فَأَمَرَتْنِي أَنْ أُشْهِدَکَ يَا رَسُولَ اﷲِ قَالَ أَعْطَيْتَ سَائِرَ وَلَدِکَ مِثْلَ هَذَا قَالَ لَا قَالَ فَاتَّقُوا اﷲَ وَاعْدِلُوا بَيْنَ أَوْلَادِکُمْ قَالَ فَرَجَعَ فَرَدَّ عَطِيَتَهُ. (ابن أبي شيبة، المصنف:٦/ ٢٣٣، رقم: ٣٠٩٨٩) ایک دوسری روایت میں ہے : اعْدِلُوا بَيْنَ أَوْلَادِکُمْ اعْدِلُوا بَيْنَ أَبْنَائِکُمْ. اپنی اولاد میں انصاف کرو، اپنے بیٹوں میں انصاف کرو۔ (أحمد بن حنبل، المسند، ٤/ ٢٧٨، رقم: ١٨٤٧٥) ایک حدیث میں ارشاد ہے : من قطع میراث وارثہ، قطع اللہ میراثہ من الجنة یوم القیامۃ۔ رواہ ابن ماجہ۔(مشکوۃ رقم الحدیث: ٢٦٦) سنن ابن ماجہ میں ہے : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من فر من ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جو اپنے وارث کو میراث دینے سے بھاگے ، اللہ قیامت کے دن جنت سے اس کی میراث قطع فرما دے گا۔(سنن ابن ماجہ،کتاب الوصایا،ص:١٩٤) بہار شریعت میں ہے : بعض اولاد کے ساتھ محبت زیادہ ہو بعض کے ساتھ کم یہ کوئی ملامت کی چیز نہیں کیونکہ یہ فعل غیر اختیاری ہے اور عطیہ، میں اگر یہ ارادہ ہو کہ بعض کو ضرر پہنچاوے تو سب میں برابری کرے کم وبیش نہ کرے کہ یہ مکروہ ہے ہاں اگر اولاد میں ایک کودوسرے پر دینی فضیلت وترجیح ہے مثلاً ایک عالم ہے جو خدمت علم دین میں مصروف ہے یا عبادت ومجاہدہ میں اشتغال رکھتا ہے ایسے کو اگر زیادہ دے اور جو لڑکے دنیا کے کاموں میں زیادہ اشتغال رکھتے ہیں انھیں کم دے یہ جائز ہے اِس میں کسی قسم کی کراہت نہیں یہ حکم دیانت کاہے اور قضا کا حکم یہ ہے کہ وہ اپنے مال کا مالک ہے حالت صحت میں اپنا سارا مال ایک ہی لڑکے کو دیدے اور دوسروں کو کچھ نہ دے یہ کرسکتاہے دوسرے لڑکے کسی قسم کا مطالبہ نہیں کرسکتے مگر ایسا کرنے میں گنہگار ہے۔ (بہار شریعت حصہ چہاردہم ، ص ٨١) واللہ اعلم بالصواب کتبہ :کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی ١٤ شعبان ١٤٤٣/ ١٨ مارچ ٢٠٢٢ الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
12
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9