صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1615 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

ہمبستری سے پہلے ہی شوہر کا انتقال ہو گیا تو عورت پر عدت ہے یانہیں ؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 13,103

سوال (Question):

ہمبستری سے پہلے ہی شوہر کا انتقال ہو گیا تو عورت پر عدت ہے یانہیں ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

ہمبستری سے پہلے ہی شوہر کا انتقال ہو گیا تو عورت پر عدت ہے یانہیں ؟

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ.. کیافرماتےہیں علماء کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ عامر کی شادی ہوئ ہے دعا سے. اور عامر فیصل آباد کا رہنے والا ہے. اور دعا چنیوٹ کی رہنے والی ہے.. جب عامر بارات لے کر چنیوٹ آیا اور دعا سے شادی ہو گئ..اور جب وہ گھر جا رہے تھے دلھن کو لے کر تو راستے میں عامر کا انتقال ہو گیا. اب اس حالت میں دعا پر عدت ہو گی یا نہیں ؟ (سائل عبد المنان اعظمی کراچی) وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ الجوابــــــــــــ بعون الملک الوھّاب صورت مسئولہ میں اس عورت پر بلاشبہ عدت لازم ہوگی، اور اگر وہ غیر حاملہ ہے تو اس کی عدت 4ماہ 10دن ہو گی، جبکہ شوہر کا انتقال چاند کی پہلی تاریخ کو ہوا ہو، ورنہ وہ عورت 130دن عدت کے پورے کرے گی : چنانچہ غیر حاملہ بیوہ کی عدت کے متعلق قرآن کریم میں ہے، وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا یَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ عَشْرًاۚ-فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا فَعَلْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ- (سورۂ بقرہ آیت نمبر(۲۳۴) ترجمہ اور تم میں جو مرجائیں اور بی بیاں چھوڑیں وہ چار مہینے دس دن اپنے آپ کو روکے رہیں پھر جب اُن کی عدت پوری ہو جائے تو تم پر کچھ مؤاخذہ نہیں اُس کام میں جو عورتیں اپنے معاملہ میں شرع کے موافق کریں اور اللہ (عزوجل) کو تمھارے کاموں کی خبر ہے- اس آیت کے تحت (تفسیر صراط الجنان میں ہے) فوت شدہ کی بیوی کی عدت 4ماہ 10دن ہے، یہ اس صورت میں ہے جب شوہر کا انتقال چاند کی پہلی تاریخ کو ہوا ہو، ورنہ عورت 130دن پورے کرے گی : یہ بھی یاد رہے کہ یہ عدت غیر حاملہ کی ہے، اگر عورت کو حمل ہے تو اس کی عدت ہر صورت میں بچہ جننا ہی ہے: (تفسیرصراط الجنان جلد1صفحہ359) فتاویٰ رضویہ الخ و بہار شریعت وغیرہا میں ہے : کہ موت کی عدت چار مہینے دس دن ہے یعنی دسویں رات بھی گزرلے بشر طیہ کہ نکاح صحیح ہو دخول ہوا ہو یا نہیں دونوں کا ایک حکم ہے اگرچہ شوہر نا بالغ ہو یا زوجہ نا بالغہ ہو، یوہیں اگر شوہر مسلمان تھا اور عورت کتابیہ تو اس کی بھی یہی عدت ہے مگر اس عدت میں شرط یہ ہے کہ عورت کو حمل نہ ہو، لیکن اگرعورت حاملہ ہو تو اس کی عدت وضع حمل ہے (بہار شریعت حصہ-۸-صفحہ-۲٣۷تا۲۴۸-مکتبۃ المدینہ کراچی) (فتاویٰ رضویہ جلد١٣صفحہ۲۹۴تا۲۹٥- رضا فاؤنڈیشن لاہور) (فتاویٰ تاتارخانیہ میں ہے) وعدة المتوفی عنها زوجها إذا کانت غیر حامل وهي حرة أربعة أشهر وعشرًا، یستوي في ذٰلک الدخول وعدم الدخول والصغر والکبر” (الفتاویٰ التاتارخانیة ۵؍۲۲۸ رقم: ۷۷۲۵) واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم ﷺ کتبــــــــــــــــــــــہ : ابورضاقاری محمد عمران عطاری مدنی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh