صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2054 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

ہونڈا کھیت لینا جائز ہے کی ناجائز?

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 9,759

سوال (Question):

ہونڈا کھیت لینا جائز ہے کی ناجائز?

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

ہونڈا کھیت لینا جائز ہے کی ناجائز

تمام علمائے دین سے گزارش ہیکہ اس مسئلہ کو حل کریں اور مسئلہ یہ ہیکہ ہونڈا کھیت لینا جائز ہے کی ناجائز )(ہونڈا کا مطلب یہ ہیکہ مان لیجیئے کہ ہمارے پاس پچاس ڈھسمل کھیت ہے اور ہم نے کسی کو یہ کہکر دیا کہ ہم کو ہر فصل پر پانچ ہزار چاہیئے اب اس سے کھیتی کرو یا پھر ویسے ہی چھوڑ دو تمہاری مرضی ہم ہر فصل پر پانچ ہزار دیتے رہنا مدلل اور مفصل جواب عنایت کیجیئے بڑی نوازش ہو گی ۔ سائل:- احقر ایم ایش فیضی نظامی الجواب بتوفیق الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب صورت مسئولہ میں ایسا معاملہ جائز ہے کہ مدت معینہ کےلئے روپئےکی کسی مقدار معین پر کھیت کو کرایہ پر لینا یا دیناجائز ھے جبکہ یہ طے ہوجائے کہ فلاں چیزکی کاشت کرےگا یا تعمیم طے ہوجائے کہ جو جی چاھےکرے۔ درمختارمیں ہے۔استاجر ارضا ولم یذکر انہ یزرعھا او ای شئ یزرعھافسدت الا ان یعم واذا فسدت فزرعھا فمضی الاجل عاد صحیحا فلہ المسمی استحسانا (باب،الاجارۃ الفاسدۃ،جلد٩ ص٨٣ ) بہارشریعت حصہ چہاردہم میں ہے زمین کو اجارہ پر دیا اور یہ نہیں بیان کیاکہ اس میں زراعت کرے گا یایہ کہ کس چیز کی کاشت کرے گاتو اجارہ فاسد ہے کیونکہ زمین سے مختلف منافع حاصل کیے جاسکتے ہیں لہٰذا تعیین ضروری ہے یایہ کہ تعمیم کردے کہ تیراجو جی چاہے کراور جب یہ دونوں باتیں نہ ہوں تو فاسد ہے پھر مزارع (کاشتکار) نے کاشت کی اور مدت پوری ہوگئی تویہ اجارہ صحیح ہوگیا اور جو اُجرت مقرر ہوئی تھی دینی ہوگی اور اگر مدت پوری نہ ہوئی تو اجر مثل واجب ہوگا اور کاشت کرنے سے پہلے دونوں میں نزاع پیدا ہوجائے تو اجارہ فسخ کردیا جائے۔ (جائزو ناجائز اجارے کا بیان ص،١٥٢/١٥٣ مسئلہ نمبر ٥٠ ) لہذا جب مالک زمین نے ایک سال تک یہ اجازت دےدی کہ جتنی چاہو فصل کرو تویہ تعمیم ہوگئ اور اجارہ صحیح و درست ہے اور زمین کا جو کرایہ طے ہوا ہے زید وہ پائے گا۔ واللہ تعالیٰ ورسولہ اعلم باالصواب منظور القادری خادم التدریس لدرجات العالیہ دارالعلوم معین الاسلام چھتونہ مہراجگنج یوپی۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh