صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1009 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

ہیٹر کے سامنے نماز پڑھنا کیسا؟ / مسائل ورلڈ

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 11,341

سوال (Question):

ہیٹر کے سامنے نماز پڑھنا کیسا؟ / مسائل ورلڈ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

ہیٹر کے سامنے نماز پڑھنا کیسا؟

السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ و برکاتہ آپ کی بارگاہ میں عرض ہیں کہ ہیٹر گیس والا ہو یا بجلی والا ہو نمازی کے سامنے ہو تو کیا حکم ہے نماز کا ۔ المستفتی سگ رضا سید گل قادری سنی بریلوی وعليـــــــكم الســـــلام ورحمة اللّہ وبرکاتہ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــ درست ہے کیونکہ مسجد میں عموماََ گیس کے ہیٹر ہوتے ہیں, جن میں ایک جالی لگی ہوتی ہے اور وہ جالی آگ کی وجہ سے سرخ ہوجاتی ہے, لیکن وہاں نہ تو انگارے ہوتے ہیں اور نہ ہی بھڑکتی ہوئی آگ, لہذا اگر نمازی کے سامنے اس قسم کا چلتا ہوا ہیٹرموجود ہو تو اس میـں کراہت نہیـــــں. کیونکہ مجوسی یعنی آگ کی پوجا کرنے والے اس کی پوجا نہیـــــں کرتے, البتہ. بھڑکتی آگ اور دہکتے انگاروں کا تنور یا چولہا وغیرہ سامنے ہو , تو یہ مکروہ ہے . کیونکہ مجوسی اس کی پوجا کرتے ہیں اور ان کے سامنے نماز پڑھنے میں مجوسیوں کے ساتھ مشابہت ہے. اسی طرح کے ( فتاوٰی رضویہ شریف, جدید, جلد ۲۴ , ص ۶۱۹) پر ہے. واللّٰہ تعالیٰ اعلم بالصواب ✍🏻محمــــــــد نورجمال رضــوی دینـــاج پـــوری منجانب سنی مسـائل شـرعیـہ گــروپ.

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh